.

سعودی عرب : شیشہ پینے اور ڈاڑھی منڈھوانے کی ممانعت کا حکم دینے والے دو جج معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سپریم جوڈیشیل کونسل نے شیشہ تمباکو پینے اور ڈاڑھی منڈھوانے کی ممانعت کا متنازع حکم دینے والے دو ججوں کو معطل کردیا ہے۔

سعودی اخبار سبق کی رپورٹ کے مطابق ان دونوں ججوں کے خلاف اس وقت تحقیقات کی جارہی ہے اور اس کی روشنی میں ان کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

ان دونوں جج صاحبان نے اپنے فیصلوں میں اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیا ہے اور انھوں نے اپنے الگ الگ حکم میں لکھا ہےکہ مردوں کا ڈاڑھی منڈھوانا ممنوع ہے ،اسی طرح ان پر شیشہ تمباکو پینے کی بھی ممانعت ہے۔

سبق نے لکھا ہے کہ ’’عدالتی کام ادارہ جاتی ہوتا ہے اور اس میں ادارے کے نظام سے متعلق کسی انفرادی رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔سعودی عرب کا نظام انصاف قانون سازی ، اصولوں اورفیصلوں پر مبنی ہے اور یہ انفرادی نوعیت کے فیصلوں کو مسترد کرتا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ سعودی عرب کی ایک عدالت نے جولائی میں رشوت ستانی، بدعنوانیوں اوراختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق پانچ مقدمات میں ماخوذ دو ججوں سمیت مختلف ملزموں کو قصور وار قرار دے کر لمبی قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنائی تھیں۔

عدالت نے رشوت لینے پر ایک جج کو چار سال قید اور ایک لاکھ 30 ہزار ریال جرمانے کی سزا سنائی تھی۔اسی مقدمے میں دلال کا کردار ادا کرنے والے مجرم کو پانچ ماہ قید اور 20 ہزار ریال (5333 ڈالر) جرمانے کی سزا کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے ایک اور مقدمے میں ماخوذ دوسرے جج کو اپنے عہدے کے ناجائز استعمال اور رشوت لینے پر چار سال قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔اس جج کو رشوت دینے والے شہری کو چار سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔