.

عالمی توانائی بہتری کے لیے ایک طاقت ہے ،مگر یہ پائیدار ہونی چاہیے:سی ٹی او سعودی آرامکو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی سعودی آرامکو کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر( سی ٹی او)احمد الخویطر نے کہا ہے کہ ’’عالمی توانائی کی سپلائی بہتری اور بھلائی کی ایک طاقت ہے، یہ قابل اعتماد اورمناسب دام ہے لیکن اس کو پائیدار بھی ہونا چاہیے۔‘‘

انھوں نے یہ بات منگل کے روز الریاض میں منعقدہ جی 20 کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے اس ضمن میں کووِڈ-19 کی ایک کامیاب ویکسین کی مثال دی ہے جس کو بڑے پیمانے پر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’خوش قسمتی سے اس وقت ہمارے پاس توانائی کا ایک نظام موجود ہے۔اس کے ذریعے تیار کنندہ کمپنی ویکسین کی اربوں خوراکوں کی حمل ونقل کرسکتی ہے اور اس کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرسکتی ہے۔‘‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’ماحول کو درپیش چیلنج سے نمٹنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں جلد کمی کی ضرورت ہے۔اس میں اگر،مگر کا سوال نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ عالمی توانائی اور موسمیاتی چیلنجز سے کیسے اور کیونکر نمٹا جاسکتا ہے۔‘‘

احمدالخویطر نے اپنی تقریر میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں طویل المیعاد اور پائیدار سرمایہ کاری کی تجویز پیش کی ہے۔اس طرح ان کے بہ قول ہم ایک گردشی نظام میں جاسکتے ہیں اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اس مقصد کے لیے قابل تجدید توانائی پیدا کرنے اور ذخیرہ کرنے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے اور انجن کے ایسے نظاموں کو تیار کیا جائے جن سے ایندھن کا کم اخراج ہو۔‘‘

انھوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ سعودی آرامکو اس طرح کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کررہی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان تمام تر اقدامات کے باوجود صرف ٹیکنالوجی ہی تمام تر حل پیش نہیں کرتی ہے بلکہ ہمیں ایک درست رویّے کے ساتھ توانائی اور ماحول سے متعلق ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔