.

امریکا میں دوسری کرونا ویکسین کے موجد لبنانی نژاد آرمینی کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا لگتا ہے کہ آرمینیوں اور ترکوں کے مابین کئی دہائیوں پہلے سے چھپی دشمنی کے خدوخال حالیہ دنوں میں دو نئی کھائیوں میں داخل ہوگئے ہیں۔ حال ہی میں ترکی نژاد دو جرمن ڈاکٹروں کے ذریعہ تیار کردہ "فائزر" ویکسین کے اعلان کے بعد ایک لبنانی نژاد آرمینی ڈاکٹر نے کرونا کی ایک اور ویکسین تیا کی ہے۔ یہ ویکسین' Moderna' کمپنی نے تیار کی ہے۔ اس طرح کرونا ویکسین کی تیاری میں جہاں ترک ماہرین کا کردار ہے وہیں آرمینیا کے ماہرین بھی پیچھے نہیں ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق Moderna کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین آرمینیائی نسل کے لبنانی ہیں اور انہوں نے 10 سال قبل دوسروں کے ساتھ مل کر یہ کمپنی قائم کی تھی۔

انٹرنیٹ پرمذکورہ لبنانی نژاد آرمینی کی شناخت 'نوبار اویان' کے نام سے کی گئی ہے۔ ان کا شمار بائیوٹیکنالوجی اور سائنس کے ایک اہم پیشہ ور افراد کے طور پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے 1983 میں کینیڈا کی میک گیل یونیورسٹی سے کیمیکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی۔987 میں امریکی میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے بائیو انجینیئرنگ میں پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کی۔ مزید معلومات کے مطابق نوبار اویان نے امریکی ریاست میساچوسٹس میں 30 سے زائد کمپنیاں قائم کیں جن کے مجموعی اثاثوں کا تخمینہ 10 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ انہوں‌نے 1983 میں کینیڈا سے امریکا نقل مکانی کی تب وہ خالی ہاتھ تھے۔

نوبار اویان نے سب سے اہم کمپنی'Moderna 'ہے جس میں انہوں‌ نے سرمایہ کاری کی۔ یہ کمپنی2010ء میں اپنے 5 دیگر سرمایہ کاروں اور سائنس دانوں کے ساتھ مل کر قائم کی۔ اس میں وہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سربراہی کر رہی ہیں۔ اس کمپنی کے شریک مالکان تارکین وطن ہیں۔

گذشتہ ہفتے ہفتے کے روز اس نے کرونا کی روک تھام کے لیے ایک نئی ویکسین کی تیاری کا اعلان کیا جو کمپنی کے بہ قول 94.5 موثر ہے۔ اس ویکسین کو'mRNA-1273' کا نام دیا گیا ہے۔ موڈرنہ امریکی ریاست بوسٹن کے دارالحکومت بوسٹن سے متصل کیمبرج میں شہر میں واقع ہے۔اس میں کینیڈا کے ماہر حیاتیات ڈیرک جے روسی بھی شامل ہیں۔ جب کہ چیف ایگزیکٹو فرانس کے ایک بزنس مین اسٹافی بینسل ہیں جو کمپنی میں 9 فیصد حصص کا مالک ہیں۔

لبنانی نژاد آرمینی اویان 1962 میں پیداہوئے۔ ان کے والد آرمینیا سے امریکا منتقل ہوگئے تھے۔ والد سنہ 1998 میں انتقال کرگئے جبکہ ماں انیس کاسابیان ابھی حیات ہیں۔

اویان کے دادا بیروت میں ایک کمرے کے مکان رہائش پذیر تھے۔ ان کے والدین نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا اور فارسی شہنشاہیت کے ساتھ مراسم استوار کیے۔ لبنان کی خانہ جنگی کے بعد ان کے والد 1976ء کوکینیڈا چلے گئے۔