.

فلسطینی اتھارٹی کا کئی ماہ کے تعطل کے بعد اسرائیل سے روابط بحال کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی عہدے داروں نے گذشتہ کئی ماہ کے تعطل کے بعد اسرائیل کے ساتھ دوبارہ روابط بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان اس سال کے اوائل میں امریکا کے مشرقِ اوسط میں قیام امن کے لیے منصوبہ کے اعلان کے بعد روابط منقطع ہوگئے تھے۔

فلسطین کے شہری امور کے وزیر حسین آل شیخ نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر محمود عباس نے اسرائیل پر دوطرفہ طے شدہ سمجھوتوں کی پاسداری پر زوردیا ہے۔اسرائیل کی جانب سے زبانی اور تحریری خطوط کے ذریعے ان کی پاسداری کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔اس کی روشنی میں اسرائیل کے ساتھ پہلے کی سطح پر معمول کے تعلقات بحال کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے فروری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ مشرقِ اوسط امن منصوبہ کو مسترد کردیا تھا اور امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات منقطع کردیے تھے۔انھوں نےاسرائیلی فورسز کے ساتھ سکیورٹی کے شعبے میں تعاون بھی ختم کردیا تھا۔

اسرائیلی فوج اور فلسطینی اتھارٹی کے تحت سکیورٹی فورسز ایک عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے اور دوسرے فلسطینی علاقوں میں تعاون کررہی تھیں اور وہ مشترکہ طور پر پولیس کا نظام بھی چلا رہی تھیں۔فلسطینی اتھارٹی کا امریکا کی سی آئی اے کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کا بھی سمجھوتا موجود ہے اور یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی 2017ء سے اسرائیل نواز سرگرمیوں کے باوجود جاری رہا ہے۔

خارجہ تعلقات کونسل کے زیراہتمام زوم ویڈیو کانفرنس میں فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ روابط بحال کرنے کا فیصلہ کرونا وائرس کی وبا کے بعد صحت کے بحران سے نمٹنے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مغربی کنارے سے ہزاروں اسرائیلی آباد کار اور ہزاروں فلسطینی کام کے لیے روزانہ اسرائیل میں جاتے ہیں۔ان کے باہمی میل جول اور آمد ورفت کے پیش نظر کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے روابط کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’’ہماری اور اسرائیلیوں کی زندگیاں باہم مربوط ہیں۔اس لیے ہم خود سے تن تنہا اس وائرس سے نہیں نمٹ سکتے۔‘‘

فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ روابط فوری طور پر بحال کردیے جائیں گے۔دوسری جانب ایک اسراییلی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ ہم روابط کی بحالی کے بہت قریب ہیں۔انھوں نے اسرائیلی وزیر دفاع اور فلسطینی حکام کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا حوالہ دیا ہے۔

اس عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ’’ایک امر نے فلسطینیوں کی اس فیصلے تک پہنچنے میں مدد کی ہے اور وہ امریکا میں منعقدہ انتخابات میں جوزف بائیڈن کا صدر منتخب ہونا ہے۔‘‘