.

کرونا کے پھیلاو کا خطرہ، ڈنمارک میں ‌بے ضرر جانور کے'قتل عام' کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حالیہ عرصہ کے دوران جانوروں میں ابھرتے ہوئے کرونا وائرس کے تبدیل شدہ ورژن کے بارے میں خدشات کے پیش نظر ڈنمارک کی حکومت نے منگل کے روز اعلان کیا ہے وہ ملک میں پائے جانے والے 15 ملین منک جانوروں کو قتل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے پارلیمنٹ سے دوسری جماعتوں کی حمایت بھی حاصل کی ہے۔ ڈینش پارلیمنٹ‌ میں منظور ہونے والے ایک بل میں 'منک' جیسے بے ضرر جانداروں کی نسل کشی حمایت کی گئی ہے۔

صحت مند جانوروں کے قتل کا حکم دینے کا حق نہ ہونے کے باوجود حکومت نے جانوروں کو ختم کرنے کے اعلان سے قبل سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔

یک جماعتی سوشل ڈیموکریٹک اقلیتی حکومت نے پیر کے روز بائیں بازو کی چار اور وسطی جماعتوں کے ساتھ ایک معاہدے پر اتفاق کیا جس میں کہا گیا ہے کہ شمالی ڈنمارک کے باہر کچھ لوگوں میں 'منک' کے ذریعے کرونا کے پھیلائو کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔

وزیر زراعت مگنس جینسن نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا کہ منک کے قتل عام کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے اس جانور کی دیکھ بھال کرنے اور افزائش نسل کے لیے کام کرنے والے افراد سےمعافی مانگ لی کیونکہ یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ جانور کے قتل عام کا کوئی قانونی جواز ہے یا نہیں۔

منک میں پائے جانے والے کرونا وائرس کا تبدیل شدہ ورژن انسانوں میں پھیل سکتا ہے حالانکہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ یہ ویکسین سے زیادہ خطرناک یا مزاحم ہے۔ صرف یہ شبہ ہے کہ اس جانور کی وجہ سے 11 افراد کرونا کا شکار ہوئے ہیں۔

یہ قابل ذکر ہے کہ ڈنمارک میں منک کے 1139 فارم ہیں جن میں تقریبا 6 ہزار افراد کام کرتے ہیں اور انہیں روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ وہاں‌ پر منک کی عالمی پیداوار کا 40 فی صد تیار کیا جاتا ہے اور وہ دنیا کا سب سے بڑا منک برآمد کنندہ ہے۔ زیادہ تر برآمدات چین اور ہانگ کانگ کو جاتی ہیں۔

خیال رہے کہ منک جسے 'آبی نیولا' بھی کہا جاتا ہے ایک نیم آبی حیوان ہے جو شمالی امریکا اور یورپی ملکوں میں پایا جاتا ہے۔