.

سعودی عرب کا کرونا کی وَبا کے خاتمے کے بعد اضافی قدری ٹیکس کی شرح پرنظرثانی پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے کرونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے بعد اضافی قدری ٹیکس ( ویٹ) کی اضافہ شدہ شرح پر نظرثانی کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کے قائم مقام وزیر اطلاعات ماجد بن عبداللہ القصبی نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’’ یہ فیصلہ بھی کسی اور فیصلے کی طرح کا ہے،ان شاءاللہ اس پر اس بحران کے خاتمے کے بعد نظرثانی کی جائے گی۔‘‘ان کا اشارہ کرونا وائرس کی وبا کی جانب تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس سال کے اوائل میں ویٹ کو تین گنا کرنے کا فیصلہ تکلیف دہ تھا۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی اگلے روز اپنی تقریر میں اس تکلیف دہ فیصلے کی جانب اشارہ کیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ سعودی عرب نے یکم جولائی سے ویلیوایڈڈ ٹیکس کی شرح پانچ فی صد سے بڑھا کر پندرہ فی صد کردی تھی۔سعودی وزارتِ خزانہ نے یہ فیصلہ کرونا وائرس کی وَبا کے قومی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کو زائل کرنے اور طویل المیعاد مالیاتی استحکام کے لیے مختلف اقدامات کے ضمن میں کیا تھا۔

ویٹ کی شرح میں اس اضافے اور زندگی الاؤنس کی معطلی پر سعودی شہری اور کاروباری ادارے سخت پریشانی سے دوچار ہوگئے تھے کیونکہ وہ حکومت سے مزید مالی معاونت کی توقع کررہے تھے جبکہ ماہرین معیشت نے خبردارکیا تھا کہ اس سے شرح نمو کم ہو کررہ جائے گی۔

دنیا میں تیل کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب نے اس سال کی تیسری سہ ماہی میں قریباً 11 ارب ڈالر کا بجٹ خسارہ ظاہر کیا ہے۔یہ گذشتہ سہ ماہی میں ہونے والے بجٹ خسارے کے نصف سے کچھ زیادہ ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی غیرتیل آمدن میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کو تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی واقع ہورہی ہے۔

سعودی عرب میں افراطِ زر کی شرح جولائی میں بڑھ کر 6۰1 فی صد ہوگئی تھی۔جون میں اس میں 0۰5 فی صد اضافہ ہوا تھا۔اس کے بعد سے اس کی یہی شرح برقرار ہے۔