.

ایران کا جوہری پروگرام خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے : فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی ایوان صدارت کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایسی حد تک پہنچ چکا ہے جو خطرناک شمار ہوتی ہے۔ جمعرات کے روز جاری بیان میں زور دیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں تہران کے علاقائی کردار اور بیلسٹک میزائلوں کو شامل کیے جانے کی ضرورت ہے۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے بدھ کے روز جاری نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران نے نطنز کی تنصیب میں نصب کیے جانے والے نئے سینٹری فیوجز میں 6th یورینیم فلورائیڈ گیس داخل کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ ایران کی جانب سے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے کی تازہ ترین خلاف ورزی ہے۔ آئی اے ای اے میں ایران کے مندوب نے اس بات کا اقرار کیا ہے۔

ایرانی مندوب کے مطابق ان کے ملک نے نطنز میں جوہری ایندھن کی افزودگی کے دو کارخانوں میں 174 سینٹری فیوجز کے اندر6th یورینیم فلورائیڈ گیس (UF6)داخل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

آئی اے ای اے نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشکوک جوہری ٹھکانے کے حوالے سے نئی وضاحت پیش کرے۔ ایجنسی کے مطابق تہران کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات "قابل اعتبار نہیں ہے"۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایران آئی اے ای اے کے غیر اجازت یافتہ مقام پر سینتھیٹک یورینیم کے اجزا کی موجودگی کے بارے میں مکمل اور جلد تفصیلات پیش کرے۔

ایک دوسرے سیاق میں فرانسیسی ایوان صدارت نے مطالبہ کیا ہے کہ ترکی کے حمایتہ یافتہ شامی جنگجو آذربائیجان سے کوچ کر جائیں۔

ترکی کے وزیر دفاع نے حلوصی آکار نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک مذاکرات اور زمینی طور پر نگورنو کاراباخ معاہدے میں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں کسی بات پر بھی مجبور نہیں کیا جا سکتا"۔

ترک وزیر دفاع کا یہ بیان روس کی جانب سے اس موقف کو دہرائے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں ماسکو کا کہنا تھا کہ کاراباخ کے حوالے سے اس کے انقرہ کے ساتھ اختلافات ہیں ... اور ترکی نے مذکورہ علاقے میں امن فوج کے تعینات کیے جانے کے معاملے کو غلط سمجھا ہے۔

اس سے قبل روسی صدر ولادی میر پوتین کے پریس سکریٹری دمتری بیسکوف نے اعلان کیا تھا کہ ترکوں کے ساتھ بات چیت میں کاراباخ ریجن کے حوالے سے اختلافات کا تصفیہ کیا جائے گا۔ بیسکوف نے واضح کیا کہ اگر ان کا ملک ابتدا سے ہی مختلف نقطہ نظر رکھتا ہے تو ساتھ اقوام متحدہ ، امریکا، شریک سربراہان، فرانس اور دیگر یورپی ممالک اس بات کے قائل ہیں کہ کاراباخ میں تنازع کے تصفیے کے لیے سیاسی اور سفارتی راستوں کا کوئی متبادل نہیں ہے۔