.

جرمنی میں کرونا کے دو مریضوں کو ابدی نیند سلانے والے ڈاکٹر سے پوچھ تاچھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک ڈاکٹر سے کرونا کے دو مریضوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ یہ واقعہ مغربی شہر ایسن میں ایک سینیر ڈاکٹر کے ہاتھوں انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کرونا کے مریضوں جن کی عمریں 47 اور 50 سال بیان کی جاتی ہیں، کو قتل کردیا تھا۔

جمعہ کے روز سٹی پولیس نے بتایا کہ 44 سالہ ڈاکٹر گذشتہ فروری سے ایسن یونیورسٹی ہسپتال میں کام کر رہا ہے۔ اس پر شبہ ہے کہ وہ 47 اور 50 سال کے دو مریضوں کو ہلاک کرنے میں ملوث ہے۔ بیماری کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہونے کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر نے انہیں شدید بیماری کی تکلیف سے 'نجات'دلانے کے لیے انہیں موت کی ابدی نیند سلا دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر کو بدھ کے روز گرفتار کیا گیا ہے۔ دوران تفتیش اس نے دو مریضوں کے قتل میں سے ایک کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ مریض اور اس کے اہل خانہ کو مزید تکلیف سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔

جرمنی کے روزنامہ "بلڈ" نے بتایا ہے کہ ڈاکٹر نے دو مریضوں کے اہل خانہ کو انجیکشن کے ذریعے ہلاک کرنے سے پہلے انہیں آگاہ کیا تھا۔

جرمنی میں گذشتہ سال جاری کیے گئے عدالتی فیصلے کے مطابق وہ مریض جن کی صحت کی حالت انتہائی حد تک بگڑجائے وہ اپنی زندگی کو ختم کرنے میں مدد کی درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم ، یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ڈاکٹر نے اس تناظر میں ضروری قانونی اور احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں یا نہیں۔