.

سعودی عرب کووِڈ-19 کے خلاف جنگ میں سرخرو ممالک میں شامل ہوگا: خالد الفالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کرونا وائرس کی وَبا کے خلاف جنگ میں سرخرو ممالک میں سے ایک ہوگا۔ یہ بات سعودی عرب کے وزیر برائے سرمایہ کاری خالد الفالح نے ہفتے کے روز گروپ بیس کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ایک میڈیا بریفنگ میں کہی ہے۔

انھوں نے کرونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے دنیا کے کثیرجہت ردعمل اور امداد کی ضرورت پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ ’’بدقسمتی‘‘ سے وبا فاتحین اور شکست خوردگان کا فیصلہ کرے گی۔انھوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سعودی عرب نے جس ردعمل کا اظہار کیا ہے اور جو فیصلے کیے ہیں،اس کے پیش نظر وہ ایک مضبوط ملک کی حیثیت سے ابھرے گا۔

خالد الفالح نے کہا کہ ’’سعودی عرب نے اس وبا کا مقابلہ پختہ عزم کے ساتھ کیا ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اپنے مالیاتی نظام کو مضبوط بنیاد پراستوار کیا ہے۔اس نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ وہ تیل کی عالمی مارکیٹ میں دھچکوں کے باوجود آگے بڑھ سکتا ہے اور اس کا نظم ونسق ایک نہایت اہل حکومت چلا رہی ہے۔‘‘

غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ

خالد الفالح نے قبل ازیں جی 20 کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر’’آئیں مل کر عالمی سرمایہ کاروں میں یقین پیدا کریں‘‘ کے موضوع پر ایک پینل میں شرکت کی۔انھوں نے اس میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب میں 2020ء کی پہلی ششماہی میں گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 12 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنی ویژن 2030ء کے تحت 2021ء میں خصوصی اقتصادی زون قائم کرنا چاہتا ہے۔ کرونا وائرس کی وبا کے باوجود ہم اس ویژن کے مقاصد اور اہداف سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔

انھوں نے شرکاء کو بتایا کہ کرونا وائرس کی وبا سے قبل بھی عالمی معیشت وتجارت کو مختلف چیلنجز درپیش تھے۔عالمی ادارہ تجارت (ڈبلیو ٹی او) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) ایسے کثیر قومی اداروں اور تنظیموں کو پہلے ہی مشکلات درپیش تھیں اور جی 20 کی صدارت کے بعد تو کام اور بھی مشکل تر ہوچکا تھا۔

سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ ’’جی 20 اور اس کی صدارت پر ایسا کچھ مختلف کرنے کے لیے زوردیا جارہا تھا جو پہلے نہیں کیا گیا تھا اور یہ بنیادی طور پر دنیا کو بچانا ہے اور اس وقت جاری بحرانوں کے اثرات کو کم سے کم کرنا ہے۔مجھے یہ بات کہتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے کہ سعودی عرب اس چیلنج پر ہورا اتر رہا ہے۔نیز ہم عالمی مسائل کے حل کے لیے عالمی حل میں یقین رکھتے ہیں۔‘‘