.

سعودی عرب کی میزبانی میں 'جی 20' گروپ کا ورچوئل سربراہ اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جی ٹوئنٹی گروپ کا سربراہ اجلاس آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے۔ دو روزہ اجلاس ہفتے اور اتوار کو جاری رہے گا۔ وڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد ہونے والا یہ اجلاس عرب دنیا کی سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا اجتماع ہے۔

جی ٹوئنٹی کے 15 ویں سربراہ اجلاس کی صدارت شاہ سلمان بن عبدالعزیز کریں گے۔ کرونا وائرس کی عالمی صورت حال کی روشنی میں یہ اجلاس ورچوئل صورت میں منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں متعدد ممالک کے قائدین اور بین الاقوامی اور علاقائی تنظیمیں شریک ہو رہی ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے ایک اہم ذمے دار کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی ٹوئنٹی گروپ کے ورچوئل سربراہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔

اجلاس کے ایجنڈے میں متعدد معاملات ہیں جن میں توانائی، ماحولیات، ڈیجیٹل اکانومی، صحت اور تعلیم نمایاں ترین ہیں۔

چوں کہ اس بار جی ٹوئنٹی اجلاس ورچوئل طریقے سے منعقد ہو رہا ہے لہذا جی ٹوئنٹی گروپ کی پریذیڈنسی کے سکریٹریٹ نے گروپ کی قیادت کی ایک ورچوئل اجتماعی تصویر ڈیزائن کی ہے۔ تصویر کو سعودی عرب کے شہر الدرعیہ میں الطریف کے علاقے کی دیوار پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ بات تاریخی طور پر محفوظ کرنا ہے کہ اجلاس کا انعقاد سعودی عرب میں ہوا۔

سعودی عرب جی ٹوئنٹی کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے رکن ممالک میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔ اسی طرح اجلاس کی میزبانی مشرق وسطی اور شمالی افریقا کے لیے اہمیت کے حامل امور کو پیش کرنے میں کردار ادا کرے گی۔

سعودی عرب کی صدارت میں جی ٹوئٹنی اجلاس کے بیان کے مسودے میں باور کرایا گیا ہے کہ قرضوں کے بوجھ میں نرمی کا منصوبہ ممکنہ طور پر جون 2021ء تک نافذ العمل رہے گا۔

کرونا کی وبا کے حوالے سے اجلاس کے اختتامی بیان میں باور کرایا گیا کہ کووڈ 19 نے معاشرے کے زیادہ کمزور طبقوں کو شدید طور سے متاثر کیا۔