.

سعودی عرب اورجی 20 کے دوسرے ممالک کا صاف توانائی اور پائیدارمستقبل کی اہمیت پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور گروپ 20 میں شامل دوسرے ممالک کے لیڈروں نے پائیدار مستقبل کے لیے سرکلر کاربن اکانومی (سی سی ای) اور صاف توانائی کو اپنانے کی اہمیت پر زوردیا ہے۔

جی 20 کے صدر شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ سعودی عرب قابلِ تجدید توانائی کے ایک بڑے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ان میں ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبے شامل ہیں اور وہ 2030ء تک ان سے ملکی ضروریات کی 50 فی صد بجلی پیدا کرے گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ’’کرۂ ارض کا تحفظ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اقتصادی سرگرمی اورآبادی میں اضافے کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوا ہے۔ہمیں ماحول کے تحفظ کے لیے پائیدار اور کم لاگت منصوبوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’سعودی عرب صدر ملک کی حیثیت سے سرکلر کاربن اکانومی کو فروغ دے رہا ہے۔اس کے ذریعے گرین ہاؤس گیسوں کا بہتر انتظام کیا جاسکے گا،ماحول کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جاسکتا ہے اور محفوظ توانائی کے ذرائع تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔‘‘

جاپانی وزیراعظم یوشیہائیڈ سوگا نے اپنی گفتگو میں کہا کہ جی 20 کو پائیدار مستقبل کے لیے تبدیلیوں کے عمل کی قیادت کرنی چاہیے اور مل جل کرایک ٹیم کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جاپان گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو صفر تک لانا چاہتا ہے۔

جاپان کے علاوہ چین کو بڑھتی ہوئی عالمی حدّت پر قابو پانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔چینی صدر شی جین پنگ نے جی 20 کے سربراہ اجلاس میں بتایا کہ ’’چین 2060ء تک کاربن فری کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اپنے اقدامات پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ چین زمین کے بنجرپن کو کم کرنے، پلاسٹک کے خاتمے اور ایک صاف اور خوب صورت دنیا کے لیے جی 20 کے درمیان گہرے روابط کی حمایت کرتا ہے۔

جی 20 کے سربراہ اجلاس کے اس آن لائن سیشن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی شرکت کی۔انھوں نے شرکاء کو پائیدار مستقبل کے لیے اپنی انتظامیہ کے اقدامات کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ’’ہم مل جل کر ہی اپنے ماحول کا تحفظ کرسکتے ہیں،صاف ،مناسب قیمت توانائی اور مواقع سے بھرپور مستقبل اور خوش حالی مہیا کرسکتے ہیں اور دنیا بھر میں اپنی اقوام کو امید دلا سکتے ہیں۔‘‘

تاہم صدر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کے ماحول کے تحفظ کے لیے پیرس سمجھوتے سے انخلا کے فیصلے کا دفاع کیا ہے کیونکہ یہ ان کے بہ قول ’’غیر شفاف‘‘ اور ’’ یک طرفہ‘‘ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھوتا ماحول کے تحفظ کے لیے وضع نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کا مقصد امریکی معیشت کا قتل تھا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ، آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن اور اطالوی وزیراعظم جیوس کونٹے نے بھی اس سیشن میں شرکت کی ہے اور دنیاکے ایک مشمولہ ، پائیدار اور تابناک مستقبل کے لیے اپنے اپنے خیالات اور عزم کا اظہار کیا ہے۔