.

کووِڈ-19:جنیوا ڈونرزکانفرنس میں افغانستان کے لیے مالی امداد میں کٹوتی کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگ زدہ افغانستان میں تعمیرِنو کی سرگرمیوں اور ترقیاتی کاموں کے لیے مختلف ملکوں اور عالمی اداروں کی جانب سے ملنے والی مالی امداد میں کٹوتی کا امکان ہے۔کووِڈ-19 کے بحران کے تناظر میں دوروزہ عالمی امدادی کانفرنس سوموار سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شروع ہورہی ہے۔اس میں دنیا کے قریباً 70 ملکوں کے وزراء اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے نمایندوں کی شرکت متوقع ہے۔

اس کانفرنس میں افغانستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کے وعدے متوقع ہیں۔جنگ زدہ ملک کی معیشت کا انحصار زیادہ ترغیرملکی امداد پر ہے،مگر اس وقت کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بہت سے ممالک خود مالی مشکلات سے دوچار ہیں،اس لیے ان کی جانب سے افغانستان کو دیے جانے والے عطیات اور امدادی رقوم میں کٹوتی ہوسکتی ہے۔

جنیوا کانفرنس کے پانچ شرکاء نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ امدادی ممالک اور ادارے افغانستان کو مہیا کی جانے والی رقوم کے ساتھ سیاسی اور انسانی حقوق کی پاسداری سے متعلق کڑی شرائط عاید کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا بڑا مقصد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دوحہ میں جاری امن عمل کو تحفظ مہیا کرنا ہے۔

واضح رہے کہ برسلز میں 2016ء میں منعقدہ افغان ڈونرز کانفرنس کے شرکاء نے 2017ء سے 2020ء تک 15 ارب 20 کروڑ ڈالرز( تین ارب 80 کروڑ ڈالر سالانہ) کی امداد دینے کےوعدے کیے تھے۔

جنیوا کانفرنس میں شریک ہونے والے ایک سینیر مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ اب اس امدادی رقم میں 15 سے 20 فی صد تک کمی ہوسکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں تعینات ساڑھے چارہزار فوجیوں میں سے ڈھائی ہزار کو آیندہ جنوری کے وسط تک واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔اس کے علاوہ برطانیہ نے بھی افغانستان میں موجود اپنے فوجیوں کی واپسی کا اعلان کیا ہے۔ان سمیت غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کا دوسرا مطلب جنگ زدہ ملک میں طالبان کے کنٹرول اوراثرورسوخ میں اضافہ ہے۔اس نئی صورت حال پر امداد دینے والےممالک اور اداروں کو یہ تشویش لاحق ہے کہ طالبان انسانی حقوق اور بچّیوں کی تعلیم کے لیے ہونے والی پیش رفت کوروک لگاسکتے ہیں۔

ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہوچکے ہیں۔طالبان جنگجوؤں نے ملک میں جنگ بندی سے انکار کردیا ہے ،ان کے افغان سکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد بعض اوقات امریکا فضائی بمباری بھی کرتا رہتا ہے۔تاہم ایک سینیر مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ جنیوا میں ڈونرزکانفرنس کے انعقاد کے بعد دوحہ بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوسکتی ہے۔