.

ترکی نے جرمن فوجیوں کو لیبیا جانے والے مال بردار بحری جہاز کی تلاشی سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے یورپی یونین کے فوجی مشن میں شامل جرمن فورسز کو اپنے ایک مال بردار بحری جہاز کی مکمل تلاشی سے روک دیا ہے۔جرمن فورسز نے شُبہ ظاہر کیا ہے کہ اس جہاز کے ذریعے لیبیا میں اسلحہ اور ہتھیار بھیجے جارہے تھے۔

جرمن وزارت دفاع نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگی بحری جہاز ہیمبرگ (فریگیٹ) پر تعینات فوجی ترکی کے مال بردار بحری جہاز روسا لائن پر سوار ہوئے تھے لیکن وہ ترکی کے یورپی یونین کے فوجی مشن سے احتجاج کے بعد تلاش کا کام ادھورا چھوڑ کراتر آئے تھے۔

جرمن کا یہ جنگی بحری جہاز بحر متوسط میں یورپی یونین کے مشن ایرینی کے تحت گشت پر مامور ہے۔اس مشن کا مقصد لیبیا میں متحارب دھڑوں تک اسلحہ کو پہنچنے کو سے روکنا ہے۔

جرمن وزارت دفاع کے ترجمان نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ’’فوجیوں کو اس جہاز سے اترتے وقت تک کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی تھی۔‘‘

دوسری جانب ترکی کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ روسالینا اے پر خوراک کی اشیاء اور پینٹ سمیت مختلف سامان لدا ہوا تھا۔سرچ ٹیم نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی تھی اور اس نے ترکی سے جہاز کی تلاشی کے لیے اجازت کا انتظار نہیں کیا تھا۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ جرمن فوجیوں نے مال بردار جہاز پر لدے کنٹینروں کو کھولنے اور ان کی تلاشی میں پوری رات گزار دی تھی لیکن انھیں کوئی بھی مشتبہ چیز نہیں ملی تھی۔اس کے بعد وہ علی الصباح جہاز سے اتر گئے تھے۔

جرمن وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان نے نیوز میگزین دیر اسپیگل میں اس واقعہ سے متعلق شائع شدہ رپورٹ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ہیمبرگ جنگی جہاز نے اتوار کی شب لیبیا کے مشرقی شہر بنغازی سے کوئی دو سوکلومیٹر شمال میں سمندر میں روکا تھا۔

ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہیمبرگ کے عملہ نے ترکی کے پرچم بردار جہاز کی تلاشی کے لیے معیاری طریق کار اپنایا تھا اور مال بردار جہاز پر چڑھنے سے قبل چار گھنٹے تک انتظار کیا تھا۔جب ان کی وہاں موجودگی پر اعتراض کیا گیا تو وہ اتر آئے تھے۔

ترکی کے بحری جہاز پر سولہ ہزار ٹن وزنی کنٹینر لدا ہوا ہے۔یہ گذشتہ ہفتے برسہ کے نزدیک واقع بندرگاہ جیملیک سے روانہ ہوا تھا۔اس کو آخری مرتبہ ایتھنز کی ساحلی حدود میں دیکھا گیا تھا اور وہاں سے یہ لیبیا کی جانب روانہ ہوگیا تھا۔