.

جوبائیڈن اپنی انتظامیہ میں تجربہ کار شخصیات کواعلیٰ مناصب پر فائز کریں گے؟کون، کیا ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن اپنی انتظامیہ میں اعلیٰ مناصب پر تجربہ کار سفارت کاروں اورعہدے داروں کو فائز کررہے ہیں۔ان میں سے بعض کے تقرر کا اسی ہفتے اعلان کیا جارہا ہے۔

اتوار کی شب یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ وہ انٹونی بلنکین کو اپنی انتظامیہ میں وزیر خارجہ مقرر کرنا چاہتے ہیں اور جیک سلیووان کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کرنے والے ہیں۔58 سالہ بلنکین جو بائیڈن کے دیرینہ معتمد ساتھی ہیں۔وہ عشروں سے ان کے ساتھ کام کرتے چلے آرہے ہیں۔

بائیڈن جب نائب صدر منتخب ہونے سے قبل امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن تھے تو بلنکین ان کے معاون خاص تھے اور انھوں نے امریکا کی مشرقِ اوسط کے بارے میں خارجہ پالیسی وضع کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔تاہم وہ یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ میں امریکا کی شام کے بارے میں پالیسی غلط ثابت ہوئی تھی۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سلیوان جوبائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر نامزد ہوسکتے ہیں۔وہ ہلیری کلنٹن کے قریبی مشیروں میں شمار ہوتے ہیں۔اوباما انتظامیہ میں امریکا کی سابق معاون وزیرخارجہ برائے افریقا لنڈا تھامس گرین فیلڈ کو اقوام متحدہ میں امریکا کی نئی سفیر مقرر کیا جارہا ہے۔

ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے نومنتخب صدر نے گذشتہ ہفتے یہ کہا تھا کہ انھوں نے سیکریٹری (وزیر) خزانہ کا انتخاب کر لیا ہے اور وہ 26 نومبر کو ان کے نام کا اعلان کریں گے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ وہ امریکا کے فیڈرل ریزور کی سابق سربراہ جینٹ یلین کا انتخاب کرچکے ہیں۔تاہم ان کے تقرر کی سینیٹ سے توثیق ضروری ہوگی۔

جوبائیڈن نے صدر منتخب ہونے کے بعد سے صرف ران کلین کا تقرر کیا ہے اور انھیں اپنا چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے۔وہ نائب صدارت میں بھی ان کے چیف آف اسٹاف تھے۔

نومنتخب صدر نے اب تک کسی متنازع شخصیت کا کسی عہدے پر تقرر کا اشارہ نہیں دیا ہے۔اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ری پبلکنز کے ساتھ بین بین چلنا چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی سابق سفیر اور صدر براک اوباما کی قومی سلامتی کی سابق مشیر سوسن رائس کو سیکریٹری آف اسٹیٹ کے عہدے کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جارہا تھا لیکن 2012ء میں لیبیا کے مشرقی شہر بنغازی میں امریکی سفارت کاروں پر حملےکے بعد ان کے متنازع بیانات پر ری پبلکن پارٹی نے کڑی نکتہ چینی کی تھی۔اس لیے اب ان کے نام پر غور نہیں کیا جارہا ہے۔تاہم انھیں کوئی اور ذمے داری سونپی جاسکتی ہے۔

جوبائیڈن نے سوموار کو ریما دودین اور شوانزا گاف کو وائٹ ہاؤس کے دفتر برائے قانونی امور کا ڈپٹی ڈائریکٹرمقرر کیا ہے۔یہ دفتر قانون سازی سے متعلق امور پر کانگریس سے رابطے کا کردار ادا کرتا ہے۔