.

سعودی عرب کووِڈ-19 کےعلاج،ویکسین کے لیےعالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا:ولی عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کرونا وائرس کی وَبا اور اس کے صحت ، اقتصادی اور سماجی مضمرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

وہ جی 20 الریاض سمٹ کے دوسرے روز اختتامی اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’’سعودی عرب کووِڈ-19 کے علاج ،ویکسین کی دریافت اور اس کی ہرکسی کو مناسب دام پر دستیابی یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔‘‘

کرونا وائرس کی وبا سے اب تک دنیا بھر میں پانچ کروڑ 77 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ان میں 13 لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ماہرین کے مطابق آیندہ مہینوں میں سردی میں شدت سے اس مہلک وائرس سے مزید ہزاروں افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔

جی 20 کے لیڈروں نے سربراہ اجلاس کے حتمی اعلامیے میں کہا ہے کہ وہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کی ویکسینوں کی منصفانہ تقسیم کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔نیز اس وبا سے متاثر ہونے والے غریب ممالک کی معاونت جاری رکھیں گے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے سربراہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں اپنی تقریر میں کووِڈ-19 کی وبا اور اس کے صحت ، معیشت اور سماج پر اثرات کے بارے میں تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’اس وبا سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ہم سب نے انسانی جانوں کے تحفظ اور اس وبا کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کیا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اس وبا کی کوئی سرحدیں نہیں ہیں۔یہ تمام علاقوں میں پہنچ چکی ہے۔اس نے اس کرۂ ارض پر بسنے والے ہرفرد کو بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر کیا ہے۔ اس صورت حال میں جی 20 کا فعال کردار ناگزیر ہوگیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس گروپ کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ ایک صدارت میں لیڈروں کا دومرتبہ اجلاس ہوا ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’تمام انسانیت کو درپیش اس عالمی خطرے سے نمٹنے کے لیے جی 20 نے بے نظیر اقدامات کیے ہیں۔سب سے پہلے تو ہم نے فوری طور پر ان لوگوں کو ضروری وسائل مہیا کیے تھے جو اس وبا کے خلاف محاذِ اوّل پر لڑرہے تھے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ جی 20 کے ممالک نے وبا پھوٹ پڑنے کے بعد ہنگامی امداد کے طورپر21 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم مہیا کی تھی تاکہ تشخیصی آلات ،ویکسینوں اور مؤثرعلاج کی دستیابی یقینی بنائی جاسکے۔سعودی عرب نے ان کوششوں کی مد میں 50 کروڑ ڈالر کی رقم مہیا کی تھی۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’’گروپ کے رکن ممالک نے عالمی معیشت کی معاونت اور افراد کے روزگار کے تحفظ کے لیے 110 کھرب ڈالرز مہیا کیے ہیں۔ہم نے دنیا کے غریب ممالک کو مالی امداد مہیا کی ہے اور ان ممالک کو قرضوں کی مد میں 14 ارب ڈالر سے زیادہ کا ریلیف دیا ہے۔نیز 300 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقوم ترقیاتی بنکوں ، عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بنک کے ذریعے مہیا کی گئی ہیں۔یہ ادارے جی 20 کے ساتھ مل کر کم آمدن والے ممالک کی معاونت کے لیے کام کررہے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا:’’ہم نے مشترکہ طور پراس امر کا بھی اظہار کیا ہے کہ ہماری مضبوطی ہمارے اتحاد میں مضمر ہے۔جی 20 کی اسی مقصد کے لیے تشکیل کی گئی تھی کہ ہر براعظم سے ممالک کو ایک جگہ اکٹھے کیا جائے،دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز سے مل جل کر نمٹا جائے اوران کا مشترکہ اور مؤثر حل تلاش کیا جائے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم خواتین اورنوجوانوں کو معیاری تعلیم اور معاشی عمل میں شمولیت کے ذریعے بااختیار بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔سعودی عرب نے جی 20کے صدر ملک کی حیثیت سے کرہ ارض کے تحفظ کی ضرورت پر زوردیا ہے اور اس سربراہ اجلاس میں کاربن کے اخراج کے انتظام کے لیے سرکلر کاربن اکانومی کے پلیٹ فارم کی توثیق کی ہے۔

ان سے قبل جی 20 سربراہ اجلاس کے میزبان شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ’’ سعودی عرب قابلِ تجدید توانائی کے ایک بڑے پروگرام پرعمل پیرا ہے۔اس میں ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبے شامل ہیں اور وہ 2030ء تک ان سے ملکی ضروریات کی 50 فی صد بجلی پیدا کرے گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ’’کرۂ ارض کا تحفظ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اقتصادی سرگرمی اورآبادی میں اضافے کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوا ہے۔ہمیں ماحول کے تحفظ کے لیے پائیدار اور کم لاگت منصوبوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’سعودی عرب گروپ کے صدر ملک کی حیثیت سے سرکلر کاربن اکانومی کو فروغ دے رہا ہے۔اس کے ذریعے گرین ہاؤس گیسوں کا بہتر انتظام کیا جاسکے گا،ماحول کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جاسکتا ہے اور محفوظ توانائی کے ذرائع تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔‘‘