.

یورپی وزرائے دفاع کی خفیہ کانفرنس میں ایک صحافی نے رنگ میں بھنگ ڈال دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں یورپی یونین کے وزراء دفاع کے ایک ورچوئل اور خفیہ اجلاس میں ایک وزیر کا خفیہ کوڈ چوری کرنے کے بعد ایک صحافی بھی شریک ہوگیا اور یوں اس نے یورپی عہدے داروں کے لیے ایک نئی مشکل کھڑی کردی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یورپی ممالک کے ورچوئل اجلاس میں ایک صحافی کا بغیر اجازت آنا سیکیورٹی کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔اس واقعے کی ایک فوٹیج مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ'ٹویٹر' پر بھی پوسٹ کی گئی ہے۔

اس ویڈیو میں ایک صحافی کو یورپی وزراء دفاع کی ورچوئل کانفرنس میں اچانک شامل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے جب کہ دیگر شرکاء ایک خاتون وزیر کے غائب ہونے اور اس کی جگہ ایک غیرمتعلقہ شخص کے آنے پر ہکا بکا رہ گئے۔

آر ٹی ایل چینل کے مطابق ڈچ وزیر دفاع انک بیلیفیلڈ کی تصویر میں خفیہ ضابطہ کا ایک حصہ دریافت کرنے کے بعد صحافی ڈینیئل ورلن یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے ایک بند کمرا اجلاس میں دراندازی میں کامیاب ہوگیا۔

اس واقعے کے بعد ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے نے اپنی حکومت سے ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مستحکم کرنے کا مطالبہ کیا۔ صحافی نے وزیر بیلیفیلڈ کی صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔ ایک صحافی کو بغیر اجازت اس طرح کی کانفرنس میں شامل ہونے کو'جرم' قرار دیا گیا ہے۔ اس نے اپنے گھر سے کام کرتےہوئے خفیہ کوڈ کے 6 میں سے 4 ہندسوں کا پتا لگایا جس سے وہ اجلاس میں داخل ہونے کے قابل ہوگیا۔

صحافی فوٹیج میں میٹنگ میں داخل ہونے کے بعد مسکراتے ہوئے وزراء کی طرف ہاتھ ہلا رہا ہے۔ اس موقع پر یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل نے اس سے کہاکہ کیا آپ کو معلوم ہےکہ آپ خفیہ کانفرنس میں غیر مجاز مداخلت کر رہے ہیں۔

اس پر ورلن نے جواب دیا:’’ ہاں! میں ڈچ صحافی ہوں،مُجھے افسوس ہے۔میں آپ کی کانفرنس میں مخل ہوا۔ اب میں واپس جا رہا ہوں۔‘‘ اگرچہ صحافی تو واپس چلا گیا مگر اس کانفرنس کو بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ کرنا پڑا۔