ایتھوپیا میں قتلِ عام : مقامی ملیشیا اور سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 600 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایتھوپیا کے شمالی صوبے ٹگرے میں مقامی ملیشیا نے پولیس کی مدد سے کم از کم 600 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ صوبے کے قصبے مے کادرا میں یہ قتل عام رواں ماہ 9 نومبر کو ہوا۔ اس بات کا انکشاف انسانی حقوق کے جنرل کمیشن نے منگل کے روز کیا۔

اولین رپورٹ میں ایتھوپیا میں انسانی حقوق کے کمیشن نے ٹگرے کے نوجوانوں پر مشتمل ملیشیا اور مقامی حکام کی ہمنوا سیکورٹی فورسز کو اس "قتل عام" کا ذمے دار ٹھہرایا جس میں موسمی کاشت کاروں کو نشانہ بنایا گیا ، ان کاشت کاروں کا تعلق علاقے سے نہیں تھا۔ اگرچہ ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نے انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر ڈینیل پیکلے کا تقرر کیا تاہم اس کے باوجود یہ انتظامی طور پر ایک خود مختار باڈی ہے۔

اس سے قبل انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ غالبا 9 نومبر کو مے کادرا قصبے میں سیکڑوں شہریوں کو کلہاڑیوں یا خنجروں سے نشانہ بنایا گیا۔ صوبائی حکام کے خلاف 4 نومبر کو شروع ہونے والے حکومتی عسکری آپریشن کے بعد یہ اب تک کی سب سے زیادہ وحشیانہ اور خون ریز ترین کارروائی ہے۔

ایتھوپیا میں انسانی حقوق کمیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں ٹگرے کے نوجوانوں کی غیر سرکاری ملیشیا "سامری" پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مقامی سیکورٹی فورسز کی معاونت سے موسمی کاشت کاروں کو نشانہ بنایا۔ یہ قتل عام سرکاری فوج کی پیش قدمی کا سامنا کرتے ہوئے ملیشیا کے مذکورہ علاقے سے انخلا سے قبل برپا کیا گیا۔

کمیشن کے مطابق اس وحشیانہ کارروائی کے مرتکب عناصر رات بھر لاٹھیوں، چُھروں، کلہاڑیوں اور چاپڑوں سے اور رسی سے گلا گھونٹ کر کاشت کاروں کو موت کی نیند سلاتے رہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے لوٹ مار بھی کی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ افعال انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم شمار کیے جا سکتے ہیں۔

عینی شاہدین اور متعلقہ کمیٹی (جو مقتول افراد کی تدفین کے لیے تشکیل دی گئی) کے ارکان کے بیانات کی بنیاد پر کمیشن نے اندازہ لگایا ہے کہ اس رات کم از کم 600 شہریوں کو قتل کیا گیا۔ تاہم اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیوں کہ کمیشن کے دورے کے وقت بہت سے افراد لا پتہ تھے اور متعدد لاشیں کھیتوں کے بیچ پڑی ہوئی تھیں۔ کمیشن کے مطابق مقتولین کی تدفین کا سلسلہ تین روز تک جاری رہا۔

کمیشن نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مے کادرا قصبے میں پیش آنے والے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرے جب کہ صحافیوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہیں۔

اب تک 40 ہزار کے قریب ایتھوپی شہری لڑائی کے سبب فرار ہو کر سوڈان میں پناہ لے چکے ہیں۔ انہوں نے حکومتی فورسز پر الزام عائد کیا کہ اس نے مے کادرا قصبے میں شرم ناک کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے۔

دوسری جانب ایتھوپیا کی حکومت نے منگل کے روز بتایا کہ ٹگرے میں باغی ملیشیا اور صوبے کی خصوصی فورسز کے ارکان کی ایک بڑی تعداد نے خود کو حکام کے حوالے کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت حکومت کی جانب سے دی گئی 72 گھنٹوں کی مہلت ختم ہونے سے پہلے سامنے آئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مہلت ختم ہونے کے بعد اس کی فورسز علاقے پر حملہ کر دیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں