ایردوآن کے مشیر کی برطرفی یا رضا کارانہ سبکدوشی، حقیقت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے سینیر ایڈوائزری کونسل کے سیئیر مشیر کے استعفے کے بعد ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق منگل کے روز صدر رجب طیب نے اپنے مشیر بولنت آرنچ کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔ آرنچ نے چند روز قبل ایک ٹی وی پروگرام میں چار سال سے زیرحراست ایک کرد رہ نما کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس مطالبے کے چار روز گذرنے کے بعد انہوں نے صدر کو استعفیٰ دے دیا تھا۔

خیال رہے کہ کرد اپوزیشن رہ نما کو قریبا چار سال قبل حراست میں لے لیا تھا۔ وہ ایک کاروباری شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ترکی میں انسانی حقوق کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔

ترک صدر کے مشیر کایہ استعفیٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے حالیہ مہینوں کے دوران حکمراں جماعت 'آق' اور اس کی اتحادی نیشنل موومنبٹ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ زیرحراست کردوں کے حامی رہ نما صلاح الدین دمیرتاش، کاروباری شخصیت عثمان کافالا اور دیگر رہ نماوں کو فوری رہا کریں۔

مستعفی مشیر اورنچ سابق وزیر اور سابق نائب وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں۔ان کا شمار حکمراں جماعت جس کی قیادت طیب ایردوآن کر رہے ہیں کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔انہوں نے 20 نومبر کو ایک ٹی وی شو کے دوران اپوزیشن رہ نماوں کو قید وبند میں ڈالنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے زیرحراست رہ نماوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں‌ نے دمیر تاچ اور کالاف کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس حوالے سے حکمراں سے کردار ادا کرنے پر زور دیا تھا۔

صدر طیب ایردوآن نے اپنے مشیروں کی طرف سے زیرحراست دو اپوزیشن رہ نماوں کی رہائی کو'فتہ' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپوزیشن کو اشتعال پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں