.

کووِڈ19:روس کی ویکسین سپوتنک 95 فی صد مؤثر،فی خوراک لاگت 10 ڈالر سے کم ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے اپنی تیار کردہ ویکسین سپوتنک پنجم کی کلینیکی آزمائش کے مزید نتائج جاری کیے ہیں اور بتایا ہے کہ وہ کووِڈ-19 کے مریضوں کے علاج میں 95 فی صد سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔اس نے مزید کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں اس کی ایک خوراک کی قیمت 10 ڈالر سے بھی کم ہوگی۔

روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی تاس نے منگل کے روز سپوتنک کے کلینیکی آزمائش کے ڈیٹا کا دوسرا عبوری تجزیہ جاری کیا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ ویکسین کی پہلی خوراک دینے کے 42 روز اور دوسری خوراک کے سات روز کے بعد یہ 95 فی صد سے زیادہ مؤثررہی ہے۔

روس کی وزارتِ صحت کے تحت جمالیہ قومی تحقیقاتی مرکز برائے وبائی امراض اور مائیکرو بیالوجی نے کہا ہے کہ وہ دسمبر کے اوائل میں اس ویکسین کے تحفظ اور مؤثر ہونے سے متعلق نتائج کو شائع کرے گا۔

اس ویکسین کی تحقیق اور تیاری کے لیے روس کے خود مختار دولت فنڈ(رشین ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ) نے رقوم مہیا کی ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ویکسین سپوتنک پنجم کی ایک خوراک کی لاگت 10 ڈالر سے بھی کم ہوگی اور یہ فروری 2021ء سے دستیاب ہوگی۔ایک فرد کو اس ویکسین کی دو خوراکیں لگانے کی ضرورت ہوگی اور ان دونوں کی کل قیمت 20 ڈالر سے بھی کم ہوگی۔

روسی فنڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپوتنک ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی دوسری غیرملکی ویکسینوں کے مقابلے میں دُگنا یا اس سے بھی زیادہ سستی ہوگی۔روسی شہریوں کو یہ ویکسین مفت لگائی جائے گی۔

فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیریل دمتریف نے بتایا ہے کہ’’ہم بھارت ، برازیل ، جنوبی کوریا ، چین اور چار دوسرے ممالک کی شراکت داری کی بدولت غیرملکی مارکیٹوں میں سپوتنک پنجم ویکسین مہیا کرنے کو تیار ہیں۔‘‘

اس ویکسین کی خشک شکل میں پیداوار بھی شروع کی جاچکی ہے۔اس کو دو سے آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ تک ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔اس طرح اس کی عالمی مارکیٹوں میں ترسیل اور تقسیم آسان ہوگی اور اس کو دور دراز ایسے علاقوں تک بھی پہنچایا جاسکے گا جہاں کا درجہ حرارت غیر مستحکم رہتا ہے۔

روس نے گذشتہ ماہ کووِڈ-19 کے علاج کے لیے اپنی تیار کردہ اس ویکسین کی عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں رجسٹریشن اور پری کوالیفکیشن کا عمل تیز کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔خود روسی حکومت نے اس ویکسین کی 11 اگست کو منظوری دی تھی اور اس کو سوویت دور کے سیٹلائٹ سپوتنک کا نام دیا تھا۔ روسی صدر ولادی میر پوتین نے خود اس ویکسین کی منظوری کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’روس یہ مہم سر کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ویکسین کی تیاری روس کی سائنس میں مہارت کا بھی ثبوت ہے۔‘‘

تاہم بعض مغربی سائنس دانوں نے روس کی تیار کردہ اس ویکسین کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا اور بعض نے خبردار کیا تھا کہ تیز رفتاری سے اس کی منظوری کا عمل خطرناک ثابت ہوسکتا ہے،اس لیے اس کی مزید کلینیکی جانچ کی ضرورت ہے۔

روس کے مقابلے میں امریکا کی دو دوا ساز کمپنیوں فائزر اور ماڈرنا نے کرونا وائرس کے علاج کے لیے تیارکردہ اپنی ویکسینوں کی کامیاب جانچ کی اطلاع دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی ویکسینیں بھی 90 فی صد سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں لیکن ان کی مجوزہ قیمت سپوتنک سے کہیں زیادہ ہے۔فائزر کی ایک خوراک کی لاگت 20 ڈالر ہوگی اور ماڈرنا کی ویکسین کی ایک خوراک کی لاگت 15 سے 15 ڈالر کے درمیان ہوگی۔