.

دوسرے ممالک سے تعاون پر ترکی نے 50 اخوان عناصر کو شہریت دینے سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی موجودہ حکومت کو مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کا حامی سمجھا جاتا ہے مگر انقرہ کے ایک حالیہ اقدام سے اخوان المسلمون کو سخت صدمہ پہنچا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق انقرہ نے اخوان المسلمون کے 50 سرکردہ لیڈران، ارکان اور صف اول کے رہ نمائوں کی طرف سے ترک شہریت کے حصول کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ درخواستیں رد ہونے کی بنیادی وجہ ان عناصر کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات اور ان کی وجہ سے مستقبل میں ترکی کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات بتائے جاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کو موصول ہونے والی معلومات میں پتا چلا ہے کہ ترکی میں عارضی طور پر مقیم اور ترکی سے باہر اخوان کے تقریبا 50 رہ نمائوں نے ترکی کی شہریت کے لیے درخواستیں دی تھیں۔ ترک حکام نے ان درخواستوں پر عمل درآمد کے لیے ان کی چھان بین کی تو پتا چلا کہ یہ لوگ ایران اور دوسرے ممالک کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔

اس کے علاوہ ان میں سے بعض نے جارجیا میں سائبر سیکیورٹی میں نقب لگانے، سوشل میڈیا سے معلومات جمع کرنے، سوشل میڈیا کے صفحات کو ہیک کرنے اور اس جیسے دوسرے کاموں کی تربیت حاصل کی ہے، جس کی وجہ سے یہ لوگ مستقبل میں ترکی کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

معلومات سے پتا چلا ہے کہ جن اخوان رہ نمائوں کی شہریت کی درخواستیں مسترد کی گئی ہیں ان میں دو کا ایران کے ساتھ تعاون ثابت ہوا ہے اور وہ اس وقت ایک یورپی ملک میں قیام پذیر ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو معلوم ہوا ہے کہ مصر میں انتہا پسند تنظیم سے تعلق کے الزام اوردیگر الزامات میں سزائے موت کا سامنا کرنےوالے ایک اخوانی کو ترک پولیس نے گرفتار کیا تاہم بعد ازاں اسے گھر پر نظربندی کی شرط پر رہا کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری ترکی میں اخوان المسلمون اور ترک حکومت کے درمیان ممکنہ بحران کا اشارہ ہے۔

دوسری طرف یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ ترکی نے اخوان المسلمون کے کچھ رہ نمائوں کو ترکی کے دائمی اقامے جاری کیے ہیں تاہم انہیں بھی ترکی کی شہریت نہیں دی گئی۔