.

سعودی عرب میں وڈیو گیمز کا شوقین سیکیورٹی محقق کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نوجوان سعودی وڈیو گیمز کے مشغلے کے ذریعے الیکٹرانک خطرات کو دریافت کرنے کے میدان میں منتقل ہونے کے بعد وہ سیکیورٹی محقق بن گیا۔ مسلسل 8 سال کے کام کے بعد وہ پوری اہلیت کے ساتھ اس شعبے میں اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب رہا۔

نوجوان "شدید نواف المطیری" جدید ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتا ہے اور الیکٹرانک کی دنیا میں ہونے والی دریافت، تحقیقات اور ان میں رہ جانے والی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے شعبے میں ایک مہارت حاصل کر چکا ہے۔ اس نے اپنی مہارت سے آن لائن پروگرامات، سافٹ ویئرز اور سائبراسپیس کی شعبے میں بہت سی خرابیاں دریافت کر کے بین الاقوامی شناخت قائم کی ہے۔

اس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس سے آپ محبت کرتے ہو تو آپ یقینا اس میں مہارت حاصل کریں گے۔ میں نے بہت چھوٹی عمر سے ہی وڈیو گیمز میں اپنی دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور یہ میرے لیے اس میدان میں‌ تحقیقات کے لیے ایک بہت بڑا محرک تھا۔ میں سائبر کی دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ رہتا۔ اس دوران تحقیقات جاری رکھیں اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کی دوڑ میں اس کے شانہ بہ شانہ رہا۔

المطیری نے اس شعبے میں سعودی نوجوانوں کے داخل ہونے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ "سائبر سیکیورٹی" ہمارے مستقبل کا حصہ ہے اور اس سے انسانیت کے لیے نئے افق کھلیں گے۔ ہمیں سعودی ہونے کے ناطے اس ترقی کا حصہ ہونا چاہئے۔

اس نے مزید کہا ابتداء میں وڈیو گیمز سے شغف رکھتا تھا۔ میں نے ان گیمز کی تیاری کے دوران رہ جانے والی کمزوریوں کی تلاش شروع کی۔ جیسے جیسے میں ان کی کمزوریوں کو سمجھتا گیا میری ان میں تحقیق کے لیے دلچسپی بڑھ گئی۔ وہیں سے سائبر اسپیس کے میدان میں آگے بڑھنے کا عملی سفر شروع ہوا۔ اس میدان میں بہت زیادہ تحقیق اور سیکھنے کی محبت نے میری رفتار تیز کردی اور میں ایک کھلاڑی سے آگے نکل کر ایک سیکیورٹی ریسرچر بن گیا۔

المطیری نے کہا کہ میں کسی بھی نوجوان کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے شوق کو ضرور پروان چڑھائیں اور اپنی پسند کی چیزوں پر توجہ دیں مگر وہ وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی جدت سے بھی آگاہی حاصل کریں۔ آپ جس میدان میں کام کر رہے ہیں اسے بہتر بنانے کے لیے اس میں پائی جانے والی خامیوں کو تلاش کر کے ان کا ازالہ کریں۔