.

میراڈونا دبئی کے عاشق تھے۔۔۔ یہاں مرنے کی خواہش رکھتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے فٹبال کے جادوگر آنجہانی ڈیگو میراڈونا اگر زندہ ہوتے اور کوئی ان سے عربوں کے ساتھ تعلق کے بارے میں سوال کرتا تو ان کی گفتگو دبئی سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہوتی۔ وہ اس شہر پر فریفتہ تھے اور اپنی بقیہ زندگی یہاں گزارنا چاہتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک بار انہوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ دبئی میں مرنا چاہتے ہیں۔ تاہم موت نے میراڈونا کو ان کے اپنے ملک ارجنٹائن میں ہی آ کر دبوچا۔

سال 2011ء میں دبئی میں قیام کے دوران انہوں نے "دبئی اسپورٹس چینل" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس شہر میں مرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ارجنٹائن میں وہ اپنے خاندان کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کھو چکے ہیں اور دبئی میں وہ خود کو یہاں کا مقامی باسی محسوس کرتے ہیں ، وہ اپنی زندگی کے آخری دن تک یہاں سے کوچ نہیں کریں گے۔

دو سال بعد 4 اپریل 2013ء کو اسی چینل نے میراڈونا کے ساتھ ایک گھنٹے سے زیادہ کا طویل انٹرویو کیا۔ انٹرویو میں میراڈونا نے تصدیق کی کہ دبئی کے "جمیرا پام" میں ان کا ایک ذاتی بنگلہ ہے۔ میراڈونا کے مطابق انہیں ہسپانیہ اور برطانیہ سے پیش کش ہوئی کہ وہ ان ملکوں میں کوچنگ کریں تاہم میراڈونا نے مسترد کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ "میں نے یہ پیش کشیں اس لیے مسترد کر دیں کیوں کہ میں نے دبئی میں اپنا دوسرا گھر پا لیا اور میں یہاں رہنے کے لیے تمام تر قدرت صرف کرنا چاہتا ہوں"۔

ارجنٹائن کے فٹبال اسٹار کا کہنا تھا کہ دبئی شہر نے ان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ یہاں کے قابل احترام لوگ سے مل کر نیا تجربہ ہوا۔ میں یہاں گھوم پھر سکتا ہوں اور سپر مارکیٹ جا سکتا ہوں ، اپنے کام سے لطف اندوز بھی ہو سکتا ہوں۔ میں یہاں بہت خوش ہوں۔ سچ بات یہ ہے کہ میں یہاں رہنا چاہتا ہوں۔ چھٹیاں گزارنے کے لیے میں فٹبال سے دور کوئی ملک تلاش کرتا تھا مگر میں نے دبئی میں وہ سب کچھ پایا جو میں چاہتا تھا۔ ہمیں ایسے لوگوں میں رہنے کی ضرورت ہوتی ہے جن میں احترام ہو۔ یہاں تک کہ اگر کوئی آپ سے آٹوگراف یا تصویر بنوانے کی درخواست بھی کرے تو اس میں ایک تہذیب اور نفاست ہو۔ دبئی میں لوگ اسی طرح پیش آتے ہیں۔ تہام دسری جگہاؤں پر صورت حال مختلف ہوتی ہے۔

انٹرویو کے دوران میراڈونا نے مزید کہا کہ اگر میں دوسری جگہ ہوتا تو مجھے گھر کے دروازے میں تالے ڈال کر اندر بیٹھنا پڑتا۔ میں اپنی پسند کا جوتا خریدنے یا ٹینس کھیلنے کے لیے باہر نہیں جا سکتا تھا۔ تاہم یہاں دبئی میں ،،، میں دبئی مول جا سکتا ہوں اور میں انفرادی طور پر گھوم پھر کر اپنے لیے کوئی بھی پسند کی چیز لے سکتا ہوں۔

میراڈونا نے 18 جنوری 2013ء کو امارات کے اخبار "الاتحاد" سے گفتگو کی تھی۔ وہ دبئی کے لیے کھیلوں کے اعزازی سفیر بھی رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو امارات کے شہریوں میں سے شمار کرتے ہیں۔

میراڈونا نے کئی مرتبہ متحدہ عرب امارات کی قومی دن کی تقریبا میں بھی شرکت کی۔ اس دوران وہ امارات کے قومی لباس میں زیب تن عوامی رقص کرتے نظر آئے۔ انہوں نے ہمیشہ دبئی کو دنیا کا پر امن ترین شہر قرار دیا۔ لہذا میراڈونا کی موت کے سبب دبئی اپنے ایک مخلص دوست سے محروم ہو گیا۔