.

یمنی حوثی بحیرہ احمر میں لنگراندازناکارہ آئیل ٹینکر کاعالمی ٹیم سے معائنہ کرانے پررضامند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اقوام متحدہ کی ٹیم کو یمن کی ساحلی حدود میں لنگرانداز ناکارہ آئیل ٹینکر کے معائنے کی منظوری دے دی ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’’عملہ اور آلات کی بحیرہ احمر میں لنگرانداز ٹینکر کے معائنے کے لیے جنوری کے آخر اور فروری کے اوائل میں آمد متوقع ہے۔‘‘

حوثیوں کی انتظامیہ کے نائب وزیر خارجہ حسین العزی نے اتوار کو بتایا تھا کہ انھوں نے عالمی ادارے کو ایک خط بھیجا ہے اور اس میں کہاہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم کا خیرمقدم کرنے کو تیار ہیں اور وہ اس کی آمد کی تصدیق کے منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان دوجارک نے بتایا ہے کہ ’’انھیں یہ خط موصول ہوچکا ہے اور یہ ایک اہم قدم ہے۔‘‘انھوں نے کہا کہ ماہرین اس ٹینکر کا معائنہ کریں گے اور وہ اس کی معمولی مرمت کرسکتے ہیں۔اس ضمن میں اقوام متحدہ کا اپنا ایک منصوبہ ہے۔اس ٹینکر کی مرمت کے لیے فی الوقت ہمیں آلات کی ضرورت ہے۔

بحیرہ احمر میں یمن کی بندرگاہ راس عیسیٰ کے نزدیک لنگرانداز ٹینکر ایف ایس او سیفر پر 11 لاکھ بیرل تیل لدا ہوا ہےاور اس ٹینکر یہ تیل سمندر میں رسنے کا خطرہ ہے۔ سیفر 1974ء میں بنا تھا۔راس عیسیٰ الحدیدہ کی بندرگاہ سے 60 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

حوثیوں سے قبل ازیں اقوام متحدہ کے ماہرین کو اس آئل ٹینکر تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے مگر انھوں نے اپنے کنٹرول والے علاقے میں کھڑے اس ٹینکر تک اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو رسائی دینے سے انکار کردیا تھا۔تاہم انھوں نے جولائی میں اس کے معائنے سے اتفاق کیا تھا۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ اس جہاز سے تیل رسنے سے ماحولیاتی ،اقتصادی اور انسانی تباہی رونما ہوسکتی ہے کیونکہ اس کی گذشتہ پانچ سال کے دوران میں کوئی مرمت نہیں کی گئی ہے۔ماہرین اس خدشے کا اظہار کرچکے ہیں کہ یہ ٹینکر پھٹ یا لیک ہوسکتا ہے اور اس سے بحیرہ احمر میں آبی حیات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس ٹینکر سے تیل رسنے سے یمن میں جاری انسانی بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے کیونکہ اس سے الحدیدہ کی بندرگاہ بند کرنا پڑے گی۔پانی اور خوراک تک رسائی متاثر ہوگی اور ملک میں ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ الحدیدہ کی بندرگاہ کے ذریعے ہی لاکھوں یمنیوں کے لیے بیرون ملک سے غذائی اجناس درآمد کی جاتی ہیں اور پھر انھیں وہاں سے ملک کے دوسرے علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے۔

امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے جون میں اس تیل بردار جہاز کی داخلی دستاویزات کے حوالے سے بتایا تھا کہ سمندری پانی ٹینکر کے انجن کے حصے میں داخل ہوچکا ہے،اس سے پائپوں کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے غرقاب ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اے پی نے اس رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے بتایا تھا کہ اب اس ٹینکر کی مرمت ممکن نہیں رہی ہے کیونکہ اس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔حوثیوں کا یمن کی بحیرہ احمر کے مغربی حصے میں واقع بندر گاہوں پر کنٹرول ہے۔