.

بیلجیئم: دہشت گردی میں ماخوذ ایرانی سفارت کار پر فردِ جُرم،20 سال قید سنانے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم کی عدالت میں دہشت گردی میں ماخوذ ایک ایرانی سفارت کار سمیت چار افراد پر فرد جر م عاید کردی گئی ہے اور استغاثہ نے عدالت سے سفارت کار کو 20 سال قید کی سزا سنانے کی مانگ کی ہے۔

بیلجیئن عدالت کی خاتون ترجمان نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ’’اس کیس میں ایرانی سفارت کار کو 20 سال قید ،جس جوڑے کے قبضے سے بم برآمد ہوا تھا،اس کو 18 سال اور چوتھے مشتبہ ملزم کو 15 سال قید سنانے کی درخواست کی گئی ہے۔اس کے علاوہ وفاقی پراسیکیوٹر نے عدالت سے مؤخرالذکر تینوں ایرانی نژاد ملزموں کی بیلجیئم کی شہریت ختم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔‘‘

ایرانی سفارت کار اور باقی تینوں ایرانیوں کے خلاف بیلجیئم کے ساحلی شہر انٹورپ میں جمعہ کو 2018ء میں فرانس میں ایرانی حزب اختلاف کے ایک جلاوطن گروپ کے اجلاس پر بم حملے کی سازش کے الزام میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تھی۔

بیلجیئم کی اس عدالت نے جولائی میں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں متعیّن سابق ایرانی سفارت کاراسداللہ اسدی سمیت چار مشتبہ افراد کے خلاف بم حملے کی سازش کے الزام میں مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔ یورپی یونین کے کسی رکن ملک میں کسی ایرانی سفارت کار کے خلاف پہلی مرتبہ دہشت گردی کے مقدمے کی سماعت کی جارہی ہے۔

بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق’’ان چاروں افراد پر دہشت گردی کے ذریعے قتل کی کوشش اور ایک دہشت گرد تنظیم کی کارروائیوں میں حصہ لینے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔‘‘

یاد رہے کہ جولائی 2018ء میں بیلجیئم کے انسداد دہشت گردی پراسیکیوٹروں نے 30 جون کو فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواح میں ایرانی حزبِ اختلاف کے جلا وطن گروپ قومی کونسل برائے مزاحمتِ ایران ( این سی آر آئی)کی ایک ریلی پر بم حملے کی سازش کو ناکام بنانے کا اعلان کیا تھا۔اس ریلی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی نے بھی خطاب کیا تھا۔

اسی دن برسلز کے علاقے میں ایرانی نژاد ایک بیلجیئن جوڑے کو گاڑی پر جاتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے پکڑ لیا تھا۔ان کے قبضے سے آدھا کلو خام دھماکا خیز مواد ٹی اے ٹی پی اور ایک ڈیٹونیٹر برآمد ہوا تھا۔

اس کے بعد تفتیش کاروں نے دو اور مشتبہ افراد کی شناخت کی تھی۔ان میں ویانا میں متعیّن ایرانی سفارت کار اسداللہ اسدی کو جرمنی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ وہاں چھٹیاں گزارنے گئے تھے۔انھیں جرمنی نے اکتوبر 2018ء میں بیلجیئم کے حوالے کردیا تھا۔

تب ایرانی حزب اختلاف کی خاتون ترجمان نے اسدی پر ریلی پر بم حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عایدکیا تھا۔تاہم فرانس نے ایرانی انٹیلی جنس پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ اس سازش کے پیچھے اس کا ہاتھ کارفرما ہے۔

اسداللہ اسدی ویانا میں ایرانی سفارت خانے میں تھرڈ قونصلر تعینات تھے۔فرانسیسی حکام کا کہنا تھا کہ وہ جنوبی یورپ میں ایرانی انٹیلی جنس کے انچارج تھے اور تہران سے ملنے والے احکامات پر عمل درآمد کرتے تھے۔بیلجیئم کی اسٹیٹ سکیورٹی سروس (وی ایس ایس ای) کے سربراہ ژاک رئیس نے پراسیکیوٹر کے نام 2 فروری 2020ء کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ ’’اس حملے کی منصوبہ بندی ایران اور اس کی قیادت کی سرپرستی میں کی گئی تھی اور یہ اسدی کی کوئی ذاتی کارروائی نہیں تھی۔‘‘