.

برازیلی صدر نے جوبائیڈن کو صدارتی انتخاب میں جیت کی مبارک باد مؤخر کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برازیلی صدر جائر بولسونارو نے امریکا میں منعقدہ حالیہ صدارتی انتخابات میں بے ضابطگیوں کے الزامات عاید کیے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوزف بائیڈن کی جیت کو فی الوقت تسلیم نہیں کررہے اور انھیں مبارک باد پیش کرنے کے لیے ابھی مزید انتظار کریں گے۔

وہ اتوار کے روز برازیل میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے شکست خوردہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان الزامات کا اعادہ کیا ہے کہ امریکا میں تین نومبر کو منعقدہ صدارتی انتخابات میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا:’’معلومات کے میرے اپنے ذرائع ہیں،وہاں فی الواقع انتخابات میں بڑے پیمانے پر فراڈ ہوا ہے۔کوئی بھی اس بارے میں بات نہیں کررہا ہے لیکن کیا یہ کسی ایک امیدوار یا دوسرے کی فتح کے تعیّن کے لیے کافی ہے، میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا۔‘‘

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ جوزف بائیڈن کی صدارتی انتخابات میں فتح کو تسلیم کرلیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ میں کچھ وقت کے لیے اس کو مؤخر کررہا ہوں۔‘‘

انھوں نے برازیل کے موجودہ الیکٹرانک ووٹنگ نظام کے بارے میں بھی شکوک کا اظہارکردیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی نظر میں اس نظام میں فراڈ ہوسکتا ہے۔وہ ایک عرصے سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ 2022ء میں صدارتی انتخابات کاغذی ووٹ پرچی کے نظام کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔

قدامت پسند برازیلی صدر ملک کے دائیں بازو میں مقبول ہیں۔وہ صدر ٹرمپ سے اپنا موازنہ کرتے ہیں۔انھوں نے بھی امریکی صدر کی طرح کرونا وائرس کے غیرمجاز علاج کی منظوری دی تھی۔وہ کرونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے پابندیوں میں نرمی پر زوردیتے رہے ہیں اور ان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ معاشی نقصانات کرونا کی بیماری سے کہیں بڑھ کرضرررساں ہوسکتے ہیں۔