.

سعودی عرب کووِڈ-19 کے رِسک جائزے میں سفر کے لیے دنیا کا چھٹا محفوظ ملک قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کووِڈ-19 کے رسک جائزے میں سفر کے لیے دنیا کا چھٹا محفوظ ملک قرار پایا ہے۔

ٹریول کمپنی ویگو نے دنیاکے ممالک میں کووِڈ-19 سے لاحق خطرے سے متعلق اپنی نئی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے۔ویگو کمپنی نے 27 نومبر کو اپنے ڈیٹا کو آخری مرتبہ اپ ڈیٹ کیا تھا۔

یہ کمپنی کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد سے دنیا کے ممالک میں سفر کے محفوظ ہونے کے بارے میں رسک جائزہ چارٹ پر مسلسل نظرثانی کرتی رہتی ہے اور نئی معلومات اور حکومتوں کے اقدامات کی روشنی میں اس کو ازسرنو مرتب کرتی ہے۔

اس کمپنی نے یورپی یونین کے کووِڈ-19 سے تحفظ کے معیار کی روشنی میں سفر کے لیے محفوظ ممالک کی نئی درجہ بندی جاری کی ہے۔اس کا عنوان ’’ڈیٹا میں ہماری دنیا‘‘ ہے۔اس میں ممالک کی محفوظ ،ہائی کیس اور مثبت صورت حال کے مطابق درجہ بندی کی گئی ہے۔

اس میں 70 ممالک کا ان کے فراہم کردہ مناسب ڈیٹا اور ٹیسٹنگ کی بنیاد پر جائزہ لیا گیا ہے اور ان میں صرف چھے کو سفر کے لیے محفوظ قراردیا گیا ہے۔

سعودی عرب کو ان ممالک میں چھٹے نمبر پر شمار کیا گیا ہے۔مملکت میں ہر دس لاکھ (ایک ملین) میں 8۰8 کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔ٹیسٹ کے مثبت ہونے کی شرح 0۰6 فی صد رہی ہے اور ہر دس لاکھ میں سے 1549 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

آسٹریلیا کو کووِڈ-19 کی وَبا کے تناظر میں دنیا کا محفوظ ترین ملک قراردیا گیا ہے۔اس کے ہاں ہر دس لاکھ میں سے صرف نصف (0۰5) نئے کیس کی تشخیص ہوئی ہے اور ہر دس لاکھ میں سے 1693 افراد کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد بالترتیب نیوزی لینڈ ، سنگاپور ، زیمبیا اور کیوبا ہیں۔

اسرائیل ، بحرین اور متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر محفوظ ممالک کی درجہ بندی میں شامل ہیں۔فلسطین ، اردن ، امریکا اور برطانیہ ایسے ممالک ہیں جہاں نئے کیسوں کے سامنے آنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے جبکہ قطر، عراق اور ایران سب سے خطرناک ممالک کے زمرے میں شمار کیے گئے ہیں جہاں بہت زیادہ کیسوں اور ٹیسٹوں کے نتیجے میں مثبت کیس سامنے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے اس وقت کووِڈ-19 کی وجہ سے بیشتر بین الاقوامی مقامات کے سفر پر پابندی عاید کررکھی ہے۔اس نے ستمبر کے وسط میں بین الاقوامی پروازوں پرعاید پابندی جزوی طور ختم کردی تھی اور یہ اعلان کیا تھا کہ یکم جنوری سے غیرملکی شہریوں پر عاید تمام سفری پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔