.

کووِڈ-19؛امریکا میں آیندہ دو ہفتے میں دو ویکسینیں عام دستیاب ہوں گی : وزیر صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی دو دوا ساز کمپنیوں کی تیارکردہ کرونا وائرس کی ویکسینیں آیندہ دو ہفتے میں ہنگامی طور پرلوگوں کو لگانے کے لیے دستیاب ہوں گی۔

اس بات کا اعلان امریکی وزیر صحت ایلکس آزر نے کیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ یہ دونوں ویکسینیں کرسمس سے قبل امریکیوں کو لگائی جاسکتی ہیں۔انھوں نے سی بی ایس کے پروگرام ’’ یہ صبح‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اور نائب صدر مائیک پینس آج سوموار کو ریاستوں کے گورنروں سے کووِڈ-19 کی ویکسین لگانے کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں۔

وہ گورنروں سے یہ تبادلہ خیال کریں گے کہ ویکسین کس گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کو ترجیحی بنیاد پر سب سے پہلے لگائی جانی چاہیے۔

امریکا کی دو دوا ساز کمپنیوں فائزر اور ماڈرنا نے اب تک کرونا وائرس کے علاج کے لیے تیارکردہ اپنی ویکسینوں کی کامیاب جانچ کی اطلاع دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی ویکسینیں بھی 90 فی صد سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ فائزر کی ایک خوراک کی لاگت 20 ڈالر ہوگی اور ماڈرنا کی ویکسین کی ایک خوراک کی لاگت 15 سے 15 ڈالر کے درمیان ہوگی۔

ماڈرنا نے 16 نومبر کو اپنی ویکسین کے آزمائشی جانچ میں 94۰5 فی صد تک مؤثر ہونے کی اطلاع دی تھی۔اس کی تیار کردہ ویکسین کی کلینیکی آزمائش کے عمل میں 30 ہزار افراد پر جانچ کی گئی ہے۔اس ویکسین نے کووِڈ-19 کے شدید متاثرہ کیسوں میں مثبت نتائج دیے ہیں اور95 متاثرہ مریضوں میں سے 11 شدید کیس سامنے آئے ہیں اور یہ وہ معمول رضاکارتھے جنھیں تجرباتی طور پر نقلی ویکسین لگائی گئی تھی۔

اس سے پہلے امریکا کی ایک اور دوا ساز کمپنی فائزر نے 9 نومبر کو کووِڈ-19 کے علاج کے لیے تیار کردہ ویکسین کے 90 فی صد سے زیادہ مؤثر ہونےکی اطلاع دی تھی۔فائزر نے جرمنی کی بائیو ٹیکنالوجی کمپنی بائیو این ٹیک کے اشتراک سے یہ ویکسین تیار کی ہے۔

امریکا کی ڈرگ اور فوڈ اتھارٹی نے ابھی تک ان کی منظوری نہیں دی ہے۔ تاہم اس کی منظوری کے بعد ان دونوں کمپنیوں کی ویکسینیں دسمبر کے دوسرے ہفتے ہفتے میں امریکا میں استعمال کے لیے دستیاب ہوں گی اور ابتدائی طور پر ان کی 6 کروڑ خوراکیں مارکیٹ میں دستیاب ہونے کی امید ہے۔واضح رہے کہ فائزر اور ماڈرونا دونوں کی ویکسینیں آر این اے اور ایم آر این اے کی نئی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر تیار کی گئی ہیں۔

ان کے علاوہ آٹھ اور کمپنیاں بھی کووِڈ کی ویکسین تیار کررہی ہیں۔دنیا بھر میں ان کی جانچ آخری مراحل میں ہے۔ان میں سے چار کا امریکا میں تحقیقاتی مطالعہ کیا جارہا ہے اور ان کی کووِڈ-19 کے علاج کے لیے مؤثر ہونے کی جانچ کی جارہی ہے۔