.

امریکا نے ایرانی دھمکیوں کے ردِعمل میں اسرائیل کے حقِ دفاع کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ خارجہ نے ایران کی جانب سے اسرائیل کی بندرگاہ حیفا پر حملے کی دھمکیوں کے بعد صہیونی ریاست کے حقِ دفاع کی حمایت کردی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم اسرائیل کے خلاف دھمکیوں کی مذمت کرتے ہیں اور اسرائیل کے ایسی کسی کارروائی کے ردعمل میں حقِ دفاع کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔‘‘

ایران کے سرکردہ جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ گذشتہ جمعہ کو پُراسرارقاتلانہ حملے میں مارے گئے تھے۔پہلے ان کی گاڑی کے نزدیک بارود سے لدی ایک کار دھماکے سے اڑا دی گئی تھی۔اس کے بعد ایک حملہ آور نے ان کی کار پر فائرنگ کی تھی۔

بعض مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق مقتول سائنس دان ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے خالق تھے۔ان کی ہلاکت کے بعد سے ایران کی سیاسی اور مذہبی قیادت کی جانب سے اسرائیل کے خلاف سخت بیان بازی جاری ہے اور بعض ایرانی لیڈر صہیونی ریاست کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

فخری زادہ ایران کے جوہری بم کے باپ کہلاتے تھے۔ایران نے 2000ء کے اوائل میں فوجی نوعیت کے جوہری پروگرام پرکام آغاز کیا تھا۔تاہم اس کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی نہیں بلکہ پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اس کے ذریعے جوہری توانائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے اسرائیل پر فخری زادہ کو قتل کرانے کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے جمعہ کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس واقعے میں اسرائیلی کردار کے ملوّث ہونے کے سنجیدہ اشارے ملے ہیں۔ایرانی میڈیا نے سوموار کو یہ اطلاع دی تھی کہ جوہری سائنس دان کو قتل کرنے کے لیے اسرائیلی ساختہ ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔

ایران ماضی میں امریکا اور اسرائیل دونوں پر اپنے دو جوہری سائنس دانوں مجید شہریاری اور مصطفیٰ احمد روشن کو قتل کرانے کے الزامات عاید کرچکا ہے۔ یہ دونوں سائنس دان تہران میں 2010ء اور 2012ء میں بم دھماکوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔تب ایران نے کہا تھا کہ اس کے سائنس دانوں کو منظم انداز میں قتل کیا جارہا ہے اور اس مہم کا مقصد اس کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے۔

ایران کی اسرائیل کے خلاف دھمکیاں

محسن فخری زادہ اس سال میں ہلاک ہونے والی ایران کی دوسری اہم شخصیت ہیں۔جنوری کے اوائل میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی ڈے کے نزدیک امریکا کے ڈرون حملے میں القدس فورس کے سابق کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے ردعمل میں ایران نے عراق میں امریکی فوج کے اڈے پر میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔

تب پاسداران انقلاب کے ایک سابق کمانڈر نے کہا تھا کہ ایران امریکا سے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا انتقام لے گا اور اس کی انتقامی کارروائی میں اسرائیل کی حیفا میں واقع بندرگاہ اور فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔اب ایرانی صدر حسن روحانی سمیت اعلیٰ عہدے داروں نے اسرائیل پر فخری زادہ کے قتل میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور ان کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کے سخت گیرکے حامی اخبار کیہان نے حکومت کو تجویز پیش کی تھی کہ اگر اسرائیل نے جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو قتل کیا ہے تو اس کی حیفا میں واقع بندرگاہ پر حملہ کردیا جائے۔

کیہان میں اس میں اتوار کو شائع شدہ ایک مضمون میں ایران کو اسرائیل کے خلاف جارحانہ ردعمل کا مشورہ دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی حیفا میں واقع تنصیبات کو نہ صرف تباہ کردیا جائے بلکہ اس کو سخت جانی نقصان بھی پہنچایا جائے۔

واضح رہے کہ حیفا اسرائیل کے شمال میں واقع ہے،یہ اس کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ اسرائیلی فوج کے سابق کرنل میری ایسین کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع ہونے کی وجہ سے ایران اپنی گماشتہ تنظیم حزب اللہ کے ذریعے حیفا کی بندرگاہ کو میزائل سے نشانہ بنا سکتا ہے۔