.

ترک اپوزیشن رہ نما کے حکومت پر قطر سے فوجی تعلقات پر تنقید کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے اخبار زمان کے ذریعہ شائع ہونے والی خبر کے مطابق ترک حکام نے ری پبلکن پیپلز پارٹی کے رکن پارلیمنٹ علی ماہر بشاریر کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں۔ ان پر الزام ہے انہوں‌ نے قطرکے ساتھ فوجی تعلقات پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ صدر ایردوآن نے ترک فوج کو قطر کے ہاتھ گروی رکھ دیا ہے۔

انقرہ میں پبلک پراسیکیوشن آفس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ترک قانون کے آرٹیکل 301 کے تحت اعلانیہ ترک حکومت اور فوجی نظام کی توہین کرنے پر بشاریر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

بشاریر نے اپنے ان بیانات کی وجہ سے ہنگامہ برپا کیا تھا جس میں انہوں نے ترکی کو ٹینکوں کے پرزہ جات کی تیاری کے لیے 'ٹانک پیلٹ پلانٹ' قطر کو فروخت کرنے پر تنقید کی تھی۔

اسی سیاق وسباق میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے پیر کے روز کہا کہ حالیہ قطری سرمایہ کاری ہمارے ملک کی معیشت پر اعتماد کا اشارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوحا کی ترکی میں "سرمایہ کاری" کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے ملک کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی نے ترکی کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں‌ نے ترک اسٹاک ایکسچینج کے 10 فی صد حصص خرید کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ترک حزب اختلاف نے اس ڈیل پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ترک صدر نے نشاندہی کی کہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس میں جرمنی ، برطانیہ اور امریکا سمیت دُنیا کے 40 سے زیادہ ممالک میں 400 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی لندن اسٹاک ایکسچینج کا 10.3 فیصد ملکیت رکھتی ہے۔