.

کرونا کے زمانے میں رہنے کے لیے بہترین اور بدترین ممالک کون سے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا کی وبا کے پھیلاؤ کے آغاز کو تقریبا ایک سال گزر چکا ہے۔ اس دوران اقتصادی دھچکوں نے دنیا کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تاہم بعض ممالک ایسے بھی ہیں جو اس وبا کا مقابلہ کرنے دیگر ممالک سے بہتر رہے۔

جہاں ایک طرف بعض ممالک نے سخت تدابیر اور اقدامات نافذ کر کے واقعتا فطری زندگی کی طرف لوٹ جانے میں کامیابی حاصل کی ،،، وہاں دوسری طرف امریکا اور بعض دیگر ممالک میں کرونا کی دوسری اور یہاں تک کہ تیسری لہر کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں لاک ڈاؤن کو بار بار نافذ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس وقت کرونا سے نمٹنے کے لیے نیوزی لینڈ سے بہتر کوئی جگہ نہیں پائی جاتی جب کہ اس سلسلے میں میکسیکو کو بدترین مقام شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ بات بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔ رپورٹ میں 53 ممالک کے حالات کا جائزہ لیا گیا تا کہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کرونا سے نمٹنے کے حوالے سے بہترین جگہ کونسی ہے۔ رپورٹ کی تیاری میں صحت، سماج اور معیشت سے متعلق اشاریوں کا تجزیہ کیا گیا۔

فہرست کو مختصر رکھنے کے لیے صرف ان ممالک کو جائزے میں شامل کیا گیا جن کی معیشت کی قیمت 200 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں 10 معیاروں کی بنیاد پر 53 ممالک کی کارکردگی کا تجزیہ کیا گیا۔

کرونا کا بہترین طریقے سے مقابلہ کرنے کے حوالے سے بلومبرگ کی فہرست میں پہلی پوزیشن نیوزی لینڈ کی ہے۔ اس نے مجموعی طور پر 85.4 پوائنٹس حاصل کیے۔ نیوزی لینڈ کے بعد فہرست میں بالترتیب جاپان، تائیوان، جنوبی کوریا، فن لینڈ، ناروے، آسٹریلیا اور چین کا نمبر رہا۔

عمومی صورت میں ایشیائی ممالک نے کرونا کی روک تھام کے اقدامات میں کافی تیزی دکھائی اور وائرس سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کی مضبوط حکمت عملی اپنائی۔

دوسری جانب کرونا سے نمٹنے والے ممالک میں کارکردگی کے لحاظ سے آخری نمبر میکسیکو کا رہا۔ یہاں کرونا کے سبب ایک لاکھ سے زیادہ اموات کا اندراج ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں اموات کے لحاظ سے بھارت، برازیل اور امریکا کے بعد میکسیکو کا چوتھا نمبر ہے۔

درجہ بندی کے آخری نمبروں میں ارجنٹائن، پیرو اور کولمبیا کا نام ہے۔ براعظم لاطینی امریکا کے ممالک کو سخت پابندیاں عائد کرنے، سرحدیں بند کرنے اور رات کے کرفیو جیسے اقدامات کے باوجود ہر دس لاکھ افراد میں اموات کے تناسب کی اعلی ترین سطح کا سامنا ہے۔ ان ممالک کو دیگر عالمی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ابتر اقتصادی صورت حال کا سامنا ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کرونا کی وبا کے عرصے کے دوران بدترین کارکردگی کے لحاظ سے بیلجیم کا چوتھا اور جمہوریہ چیک کا پانچواں نمبر ہے۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے سے متاثرین اور اموات کی سب سے زیادہ تعداد امریکا میں ہے۔ یہاں 30 نومبر تک 1.3 کروڑ متاثرین اور 2.6 لاکھ اموات کا اندراج ہو چکا ہے۔

بلومبرگ کی فہرست میں امریکا کا 18 واں نمبر ہے۔ اس کی وجہ انسانی ترقی کے اشاریے کا بلند ہونا اور قابل ذکر طبی نگہداشت کی سطح تک پہنچنا ہے۔