.

’سعودی عرب کسی قتل کی منظوری نہیں دیتا‘:عادل الجبیر ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف پربرس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرِمملکت برائے امورِخارجہ عادل الجبیر نے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کے تازہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ان پر واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کسی کو قتل کرنے کی منظوری نہیں دیتا ہے۔

جواد ظریف نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں سعودی عرب کو ایران کے جملہ مسائل کا مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی ہے اور اپنے جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کے قتل کے حالیہ واقعہ پر بھی سعودی عرب کی جانب انگلی اٹھائی ہے۔

عادل الجبیر نے ان کے بیان کے ردعمل میں ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’بظاہر مایوسی نے مسٹر جواد ظریف کو ایران میں جو کچھ رونما ہورہا ہے،اس کا سعودی عرب کو موجب قرار دینے پر مجبور کیا ہے۔‘‘

جواد ظریف نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ’’ (امریکی وزیر خارجہ)پومپیو کا خطے کا حالیہ دورہ ، سعودی عرب میں سہ فریقی ملاقات اور نیتن یاہو کے بیانات،یہ تمام تانے بانے اس سازش کی نشان دہی کرتے ہیں جو بدقسمتی سے گذشتہ جمعہ کو دہشت گردی کے بزدلانہ حملے کی صورت میں رونما ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں ملک کے ایک سرکردہ منتظم کی شہادت ہوئی ہے۔‘‘

لیکن ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔انھوں نے اس پوسٹ میں گذشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے مشرقِ اوسط کے دورے اور ان کی سعودی اور اسرائیلی عہدے داروں سے مبیّنہ ملاقات کا حوالہ دیا تھا۔سعودی عرب نے ایسی کسی سہ فریقی ملاقات کے وقوع پذیر ہونے کی تردید کی ہے۔

عادل الجبیر نے ایرانی وزیرخارجہ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ ’’اگر ایران میں کوئی زلزلہ یا سیلاب آتا ہے تو سعودی عرب ہی کو ان کا ذمے دار ٹھہرایا جاتا ہے۔‘‘

انھوں نے ایران کے جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کے گذشتہ جمعہ کو پُراسرار مگر فوجی نوعیت کی کارروائی میں قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ سعودی عرب کسی بھی شکل اور کسی بھی انداز میں ایرانی نظام کی طرح قتل کی منظوری نہیں دیتا ہے۔1979ء میں ایران میں برپاشدہ انقلاب کے بعد اس نے تو دنیا بھر میں قتلوں کی بنیاد پر اپنے نظام کی تعمیر کی ہے‘‘۔