.

اقوام متحدہ کے ماہرین کا فرانس سے مجوزہ متنازع سکیورٹی قانون پر نظرثانی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے آزاد ماہرین پر مشتمل گروپ نے فرانس پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے مجوزہ متنازع سکیورٹی قانون پر نظرثانی کرے۔اس نے کہا ہے کہ فرانس کا یہ قانون عالمی انسانی حقوق سے کوئی ’’مطابقت‘‘ نہیں رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کے پانچ خصوصی نمایندوں نے فرانس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مجوزہ قانون پر جامع انداز میں نظرثانی کرے اور اس کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق بنائے۔

فرانس کے اس مجوزہ سکیورٹی بل کی دفعہ 22 کے تحت سکیورٹی مقاصد کے لیے شہریوں کی ڈرون کے ذریعے نگرانی کی جاسکے گی جبکہ دفعہ 24کے تحت ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کی تصاویر کو انھیں جسمانی اور نفسیاتی ضرر پہنچانے کی نیّت سے شائع کرنا فوجداری جرم ہوگا۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کی جانب سے فرانسیسی حکومت پر اس مجوزہ قانون کی بنا پر کڑی نکتہ چینی کی جارہی ہے اور اس سے اس پر نظرثانی یا اس کو سرے سے ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

فرانسیسی پولیس کو پہلے ہی ایک سیاہ فام میوزک پروڈیوسر پر تشدد کے الزام میں کڑی تنقید کا سامنا ہے۔اسی ہفتے چارپولیس افسروں پر میوزک پروڈیوسر مائیکل زیکلر پر تشدد کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ان کی مائیکل زیکلر پر تشدد کی تصاویر اور نسل پرستی پر مبنی دشنام طرازی کی ایک ویڈیو سامنے آئے تھی۔

اس کے بعد ہزاروں افراد نے فرانسیسی حکومت کے تجویز کردہ متنازع سکیورٹی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔بعض احتجاجی ریلیوں میں تشدد کے واقعات بھی پیش آئے ہیں جن کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے ان مظاہروں کے بعد فرانسیسی حکومت کے مجوزہ بل کی دفعہ 24 پر نظرثانی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے صدر عمانوایل ماکروں کی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ تمام بل کا جامع انداز میں جائزہ لے اور اس کو بین الاقوامی قانون کے مطابق بنائے۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف دفعہ 24 کو دوبارہ تحریر کرنے سے اس بل میں موجود اسقام دور نہیں ہوں گے اور یہ صرف واحد دفعہ نہیں ہے جس میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے دفعہ 22 کے تحت سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے مقاصد کے لیے ڈرون کے ذریعے مظاہرین کی نگرانی کی اجازت پر بالخصوص اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس دفعہ کے تحت ڈرون کو مظاہرین کی بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون کے اس مقصد کے لیے استعمال کے شہریوں کی ذاتی زندگی کے تحفظ کے حقوق کے حوالے سے سنگین مضمرات ہوں گے۔اس کے علاوہ پُرامن اجتماع کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کا حق بھی متاثر ہوگا۔