.

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نیٹو کے اجلاس میں ترکی پر برس پڑے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو دو روز پہلے معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے اجلاس میں ترکی پر برس پڑے ہیں اور اس کو روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی نے یہ میزائل دفاعی نظام خرید نہیں کیا ہے بلکہ اس کو روس نے تحفہ دیا ہے۔

بعض سفارت کاروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ منگل کو تنظیم کے وزرائے خارجہ کی ویڈیو کانفرنس میں مائیک پومپیو نے کہا کہ ’’ترکی نیٹو کی سکیورٹی کو نقصان پہنچا رہا ہے اور مشرقی بحرمتوسط میں یونان اور غیر نیٹو رکن ملک قبرص کے ساتھ گیس کے ذرائع پر تنازع کو ہوا دے رہا ہے۔‘‘

انھوں نے اپنے ترک ہم منصب مولود شاوش اوغلو کو مخاظب ہو کر کہاکہ ’’ترکی نے لیبیا میں کرائے کے شامی جنگجوؤں کو بھیج کرغلط اقدام کیا ہے۔اس نے ناگورنوقراباغ کے تنازع میں بھی کرائے کے شامی جنگجوؤں کو آرمینیا کی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا تھا۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا کے محکمہ دفاع نے جولائی میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ترکی لیبیا میں شامی جنگجوؤں کو بھرتی کرکے بھیج رہاہے اور وہ طرابلس حکومت کی وفادار فورسز کی صفوں میں شامل ہوکر خلیفہ حفتر کی فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔

سفارت کاروں کے مطابق نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اس اجلاس میں فرانس ، یونان اور ننھے ملک لکسمبرگ کے وزرائے خارجہ نے بھی ترکی پر تنقید کی ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’’اگر کوئی اتحادی ملک روس کی نقل کرتا ہے تو نیٹو کا اتحاد ممکن نہیں رہے گا۔‘‘

ایک امریکی عہدہ دار کا کہنا تھا کہ بند کمرے کے اجلاس میں کھلے ماحول میں گفتگو ہوئی تھی لیکن انھوں نے اس کی کوئی زیادہ تفصیل نہیں بتائی ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ امریکا مختلف مواقع پر ترکی پر یہ زوردیتا رہا ہے کہ وہ روس سے خرید کردہ میزائل دفاعی نظام ایس-400 سے متعلق مسئلہ کو حل کرے اور شامی جنگجوؤں کے غیرملکی تنازعات میں استعمال کو ترک کردے۔

ترک وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلونے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس خفیہ اجلاس کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

انھوں نے ایک اجتماع میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے تو صرف دو ممالک میں اختلافات اور متنازع امور کا خاکا بیان کیا تھا۔ہمیں روس سے ہتھیاروں کا ایک نظام خرید کرنا پڑا تھا کیونکہ ہم اپنے اتحادیوں سے خرید نہیں سکے تھے۔‘‘

اس اجلاس سے باخبر ترک ذرائع کا کہنا ہے کہ مائیک پومپیو نے بلاجواز الزامات عاید کیے تھے اور یہ ترکی کے خلاف کوئی متحدہ محاذ نہیں تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ترکی مشرقی بحر متوسط کے تنازع پر کسی پیشگی شرط کے بغیریونان سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔