.

سعودی عرب:غلط طور پرگرفتارکیے گئے 1539 افراد کی جیلوں اورحراستی مراکزسے رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں غلطی سے گرفتار کیے گئے 1539افراد کو جیلوں اور حراستی مراکز سے رہا کردیا گیا ہے۔ سعودی محکمہ استغاثہ نے جمعرات کو ان کی رہائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

سعودی عرب کے محکمہ جیل خانہ جات کے ایک رکن عبداللہ البلیحی نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ’’مشتبہ افراد کے خلاف وضع کردہ کیسوں کے جائزے کے علاوہ ان کی گرفتاری کے پروٹوکول کی بھی تصدیق کی گئی ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔‘‘

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں ، حراستی مراکز اور سماجی دیکھ بھال کے گھروں میں رکھے گئے افراد کے معاملات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ان کی فائلیں دیکھی گئی ہیں اوران کے خلاف دائر کردہ کیسوں کا سعودی عرب کے فوجداری طریق کار کے معیارات کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔

البلیحی نے مزید کہا کہ ’’معیاری فوجداری طریق کار کی پاسداری اور مجاز حکام کی منظوری کے بغیر کسی بھی فرد کی گرفتاری قانونی نہیں ہوتی۔جب ایسی کوئی صورت حال وقوع پذیر ہوتی ہے تو محکمہ جیل خانہ جات کا کردار شروع ہوتا ہے کہ وہ پروٹو کولز پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔‘‘

سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوشن کے دفتر میں گذشتہ ایک سال کے دوران میں زیرحراست کی جانب سے 24 ہزار درخواستیں دائر گئی تھیں۔ان کے مکمل جائزے کے بعد اب تک جیلوں اور حراستی مراکز سے 1539 قیدیوں کو رہا کیا جاچکا ہے۔