اسرائیل فلسطینی ریاست قائم کرے،سعودی عرب مکمل تعلقات استوار کرنے کو تیار ہے: وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسرائیل کے ساتھ مشروط طور پر مکمل تعلقات استوار کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے مگر انھوں نے اسرائیل سے معمول کے تعلقات قائم کرنے کی یہ پیشگی شرط عاید کی ہے کہ پہلے فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔

وہ ہفتے کے روز بحرین کے دارالحکومت منامہ میں بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ برائے سکیورٹی مطالعات کے زیراہتمام کانفرنس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’’ہم اسرائیل کے ساتھ معمول کے مکمل تعلقات استوار کرنے کے لیے ہمیشہ سے تیاررہے ہیں اور ہمارا یہ خیال ہے کہ اسرائیل کو خطے میں اس کا مقام ملے گا لیکن اس کو وقوع پذیر ہونے اوراس کی پائیداری کے لیے ہمیں فلسطینیوں کی ریاست قائم کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اس مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا۔‘‘

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ’’اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام ہی سے خطے میں حقیقی امن قائم ہوگا اور اسی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے ستمبر میں اسرائیل کے ساتھ معاہدۂ ابراہیم کے نام سے الگ الگ امن معاہدے طے کیے تھے۔ان دونوں عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار ہونے کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اب سعودی عرب بھی صہیونی ریاست کے ساتھ امن معاہدہ اور پھر معمول کے تعلقات استوار کرلے گا لیکن وہ پہلے بھی اپنی اس پیشگی شرط کا اعادہ کرچکا ہے کہ اس سے پہلے آزاد فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں