.

امریکا نےچین کی رقوم سے چلنے والے تبادلہ کے پانچ پروگرام منسوخ کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ خارجہ نے چین کی رقوم سے چلنے والے تبادلے کے پانچ ثقافتی تعلیمی پروگرام منسوخ کردیے ہیں۔اس نے کہا ہے کہ یہ ’’ثقافتی تبادلے‘‘ کے پردے میں پروپیگنڈے کے حربے کے طور پر استعمال کیے جارہے تھے۔

امریکا کے انٹیلی جنس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ چند سال سے امریکی جامعات چین کی جاسوسی کی سرگرمیوں کا آسان ہدف بن چکی ہیں۔امریکا کی درجہ بندی میں سرفہرست جامعات میں تعینات بعض پروفیسروں اورزیرتعلیم طلبہ پر چین کے لیے جاسوسی کے الزامات میں فرد جرم عاید کی جاچکی ہے۔

امریکا کے محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بند کیے گئے پانچ پروگراموں کے لیے چینی حکومت مکمل طورپر فنڈز دے رہی تھی اور چین انھیں نرم پرپیگنڈا کے حربے کے طور پر استعمال کررہا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ پروگرام چینی عہدے داروں کو بڑے محتاط انداز میں رسائی دے رہے تھے،چینی عوام کو نہیں،جنھیں اجتماع اور اظہار رائے کی آزادی حاصل نہیں ہے۔امریکا عوامی جمہوریہ چین کے عہدے داروں اور چینی عوام کے ساتھ ثقافتی پروگراموں کے شفاف انداز میں تبادلے کا خیرمقدم کرتا ہے لیکن اس طرح کے یک طرفہ پروگرام باہمی مفاد میں نہیں ہوسکتے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں ایک ہزار سے زیادہ چینی طلبہ اور محققین کے ویزے منسوخ کردیے تھے اور ان پر امریکا کے حقوقِ دانش چُرانے کا الزام عاید کیا تھا جن کی بدولت چین کی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملی ہے۔

اس کے جواب میں چین نے یہ کہا تھا کہ امریکا نے زیر تعلیم طلبہ اور محققین کو جان بوجھ کرگرفتار کیا ہے،ان کی نگرانی کی ہے اور انھیں ہراساں کیا ہے۔

یاد رہے کہ جون 2019ء میں امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے وائس چیئرمین ڈیمو کریٹ مارک وارنر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکی جامعات میں زیرتعلیم چینی طلبہ پر امریکا کی جاسوسی کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے ملک میں ردِ سراغرسانی کے زیادہ تر کیسوں میں چینی شہری ملوّث پائے جارہے ہیں۔