.

دنیا کروناوائرس کی وَبا کے خاتمے سے متعلق ’’خواب دیکھنا‘‘ شروع کردے:سربراہ ڈبلیوایچ او

سرنگ کے آخری سرے میں روشنی تیزتر ہورہی ہے لیکن ویکسینوں کو عالمی عوامی شے کے طور پرمساوی تقسیم کیا جانا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ تیدروس ادانوم غیبریوسس نے کرونا وائرس کے علاج کے لیے تیارکردہ ویکسینوں کے آزمائشی جانچ میں مثبت نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دنیا اب اس وَبا کے خاتمے کا خواب دیکھنے کا آغاز کرسکتی ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے امیر اور طاقت ورممالک کو ویکسینوں کی بھیڑ میں غرب اور دیوار سے لگےلوگوں کو کچل نہیں دینا چاہیے۔

وہ کرونا وائرس کی وَبا سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پہلے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے مگر آگے کا راستہ بدستور دشوار گذار ہوگا۔‘‘

انھوں نے اپنی تقریر میں وَبا کے دوران میں رونما ہونے والے مختلف سیاسی ، سماجی اور ثقافتی مظاہر کا بھی تذکرہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’اس وبا نے انسانیت کی بہترین اور بدترین شکلیں دکھائی ہیں۔ایثاروقربانی کی متاثرکن مثالیں سامنے آئی ہیں،سائنس نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے اور یک جہتی کے دل کو گرما دینے والے مظاہرے دیکھنے کوملے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذاتی مفاد ، تقسیم اور الزام تراشی کے پریشان کن اشارے بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔‘‘

تیدروس نے کرونا وائرس کے کیسوں اور ہلاکتوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کسی ایک ملک کا حوالہ تو نہیں دیا لیکن یہ کہا کہ ’’ جہاں سازشی نظریات سے سائنس ڈبوئی جا رہی ہے، یک جہتی کو تقسیم سے نقصان پہنچایا جارہا ہے،ذاتی مفاد کو قربانی کا متبادل بنایا جارہا ہے، وہاں وائرس پھلتا پھولتا اور پھیلتا ہے۔‘‘

انھوں نے اعلیٰ سطح کے اس عالمی ورچوئل اجلاس میں خبردار کیا ہے کہ ’’کرونا وائرس کی ویکسین سے غربت ، بھوک ، عدم مساوات ، موسمیاتی تبدیلی ایسے گہری جڑیں رکھنے والے مسائل حل نہیں ہوں گے اور ان سے وَبا کے خاتمے کے بعد نمٹا جانا چاہیے۔‘‘

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کووِڈ-19 کی ویکسینوں کی تیاری کے حوالے سے کہا کہ ’’اب سرنگ کے آخری سرے میں روشنی تیزتر ہورہی ہے لیکن ویکسینوں کو ایک عالمی عوامی شے کے طور پر مساوی انداز میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ یہ کوئی ذاتی شے نہیں ہونی چاہییں جن کے نتیجے میں عدم مساوات کی خلیج بڑھے اور کچھ لوگوں کے مزید پسماندہ رہنے کا ایک اور ذریعہ بن جائے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ کووِڈ-19 کی ویکسینوں کو وسیع پیمانے پر ذخیرہ اور تقسیم کرنے کے لیے ڈبلیو ایچ او کو فوری طور پر چار ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقم درکار ہے۔2021ءمیں مزید 23 ارب 90 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے۔

تیدروس ادانوم غیبریوسس نے اجلاس میں بتایا کہ ’’دنیا ہر سال صحت 75 کھرب (ساڑھے سات ٹریلین) ڈالر خرچ کرتی ہے۔ یہ رقم عالمی جی ڈی پی کا 10 فی صد ہے لیکن ان میں سے زیادہ تر رقم امیر ممالک میں بیماریوں کے علاج پر خرچ کی جاتی ہے، صحت کے تحفظ یا فروغ پر خرچ نہیں کی جاتی ہے۔ہمیں اس سلسلے میں اپنی سوچ پر ںظرثانی کی ضرورت ہے اور صحت کو اہمیت دینی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا اس طرح کے بڑے پیمانے کے ایک اور بحران سے بچنا چاہتی ہے تو اس کو صحت عامہ کے بنیادی نظام پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے بھی جمعرات کو جنرل اسمبلی کے اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ویکسین کی عام دستیابی کے لیے فنڈز مہیا کرنے کی اپیل کی تھی۔اقوام متحدہ کے تحت حقوق اطفال کے ادارے یونیسیف کی سربراہ ہینریٹا فور نے اپنی تقریر میں کہا کہ جب غریب ممالک نے ویکسین خرید کرنے کی کوشش کی تھی تو ان کے لیے کچھ بھی دستیاب نہیں تھا یا اس کی قیمت بہت زیادہ تھی۔