.

سعودی ماہرین کا سردی کے 40 روزہ سیزن کے آغاز کا اعلان، شدید ترین سردی 20 روز بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں فلکیات کے ماہر ڈاکٹر خالد الزعاق نے مملکت میں "40 روزہ شدید سردی کے سیزن" کے آغاز کا انکشاف کیا ہے۔ اس حوالے سے گذشتہ روز کی گئی ٹویٹ میں الزعاق کا کہنا ہے کہ اس سیزن کا پہلا سبب قدرتی ہے جب کہ دوسرا سبب ماحولیاتی ہے۔ اگر بارشوں کے سلسلے نے طول پکڑا تو اس سے سیزن کی شدت میں کمی آ سکتی ہے۔

الزعاق نے واضح کیا کہ سخت ترین سردی "سیزن" کے وسط میں یعنی اب سے 20 روز بعد ہو گی۔ ان کے مطابق سیزن کے آخری تین ہفتے رواں سال کے سرد ترین دن ہوں گے۔

ادھر ماہر موسمیات عبدالعزیز الحصین نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر توقع ظاہر کی ہے کہ مملکت کے صوبے الشمالیہ، تبوک، الجوف، حائل اور مدینہ منورہ آج ہفتے کے روز سے درمیانی شدت کی سردی کی لہر کی لپیٹ میں آئیں گے۔ بعد ازاں اتوار سے یہ القصیم اور ریاض تک پھیل جائے گی۔ توقع ہے کہ یہ لہر کئی روز تک جاری رہے گی۔ آج سے لے کر اتوار کی صبح تک ریاض، القصیم، الشمالیہ، الجوف، الشرقیہ، مکہ، الباحہ، عسیر، جازان اور مدینہ منورہ کے صوبوں کے مختلف علاقوں میں ہلکی اور تیز بارشیں اور درجہ حرات میں کمی متوقع ہے۔

سعودی محکمہ موسمیات نے آج کے لیے اپنی موسم کی رپورٹ میں توقع ظاہر کی ہے کہ اللہ کی مشیت سے ریاض،القصیم، حائل، الجوف، شمالی سرحد اور الشرقیہ کے صوبوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوں گی اور ساتھ ہی تیز ہوائیں بھی چلیں گی۔ مختلف علاقوں میں بارشوں کی شدت درمیانی سے موسلادھار ہو گی۔ علاوہ ازیں جازان، عسیر، الباحہ اور مکرہ مکرمہ کے پہاڑی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق بحر احمر کے شمالی حصے میں ہواؤں کا رخ شمال مغرب سے شمال کی جانب اور جنوبی حصے میں جنوب مشرق سے جنوب مغرب کی جانب رہے گا۔ اس دوران ہواؤں کی رفتار 16-38 کلو میٹر فی گھنٹہ رہے گی اور موجوں کی بلندی ایک سے دو میٹر ہو گی۔ ادھر خلیج عربی میں ہواؤں کا رخ شمال مغرب سے شمال کی جانب رہے گا۔ اس دوران ہواؤں کی رفتار 14-36 کلو میٹر فی گھنٹہ رہے گی جب کہ موجوں کی بلندی ایک سے ڈیڑھ میٹر ہو گی۔