.

کویت: پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں ہفتے کے روز پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ کویتی حکام کا کہنا ہے کہ کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سخت احتیاطی تدابیر کے باوجود پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی بہتر شرح متوقع ہے۔

کویت کی اپیل کورٹ کے ایک نمایندہ نایف المطیرات نے ایک پولنگ مرکز پر العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ہم 50 فی صد سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کی توقع کررہے ہیں جبکہ بیشتر پولنگ اسٹیشنوں سے کوئی شکایات نہیں ملی ہیں۔ہم نے آج صبح ووٹروں کی بڑی تعداد میں شرکت ملاحظہ کی ہے لیکن ظہر اور عصر کی نمازوں کے دوران میں ان کی تعداد میں کمی واقع ہوئی تھی۔‘‘

کویت میں قریباً پانچ لاکھ رجسٹرڈ ووٹر سولھویں قومی اسمبلی کی 50 نشستوں کے انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتے تھے۔ان انتخابات میں کل 326 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ان میں 33 خواتین امیدوار بھی شامل ہیں۔

کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومت کے نافذ کردہ سخت قواعد وضوابط کی وجہ سے ان امیدواروں نے کھلے عام انتخابی مہم نہیں چلائی تھی بلکہ سوشل میڈیا کے لیے ذریعے ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کے سامنے اپنے اپنے انتخابی منشور پیش کیے ہیں۔

کویت بھر کے 102 تعلیمی اداروں میں قائم کردہ پولنگ مراکز میں ووٹروں اور انتخابی عملہ کو کرونا وائرس کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے سخت حفاظتی احتیاطی اقدامات کیے گئے تھے اور ان میں ایک ایک عارضی ڈسپنسری بھی قائم کی گئی تھی۔

جن ووٹروں کا کووِڈ-19کا نتیجہ مثبت تھا،ان کے لیے الگ سےپانچ پولنگ اسٹیشن مختص کیے گئے تھے، تاکہ ان کے مرض کی تشخیص ان کے شہری فرض کی ادائی میں حائل نہ ہو اور وہ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔

کویت کی قومی اسمبلی کے سبکدوش ہونے والے اسپیکر مرزوق الغانم کا کہنا تھا کہ ’’قبل ازیں ان خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا کہ موجودہ غیرمعمولی حالات کے پیش نظر ان انتخابات میں ماضی کے مقابلے میں ووٹر کم تعداد میں شرکت کریں گے لیکن حفظانِ صحت کے لیے اقدامات کی بدولت انتخابات کے محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔‘‘