.

جرمنی نے الاخوان المسلمون سے تعلق کے الزام میں اسلامک ریلیف کی امداد بند کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن حکومت نے عالمی امدادی تنظیم اسلامک ریلیف کی الاخوان المسلمون سے تعلق کے الزام میں مالی معاونت بند کر دی ہے۔

جرمن حکومت نے حزب اختلاف کی ایک جماعت کی درخواست کے جواب میں یہ معلومات افشا کی ہیں۔جرمن وزارت داخلہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’’اسلامک ریلیف ورلڈ وائیڈ اور اسلامک ریلیف ڈیوش لینڈ کے الاخوان المسلمون سے نمایاں ذاتی روابط قائم ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ جرمنی نے مصر سے تعلق رکھنے والی قدیم دینی ،سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کو عرصہ قبل دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔اس جماعت کو مصری مفکر حسن البنا نے 1928ء میں قائم کیا تھا۔اب تک مصر سمیت متعدد عرب ممالک اس کو دہشت گرد گروپ قرار دے چکے ہیں۔

2018ء جرمنی کے ایک مقامی اخبار نے جرمن انٹیلی جنس اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ حکام الاخوان المسلمون کو جرمنی کی جمہوریت کے لیے داعش سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔

اگست میں اسلامک ریلیف کی قیادت نے تنظیم کے نئے ڈائریکٹر کے حماس کی قیادت کے حق میں بیانات کی تفصیل سامنے آنے کے بعد اجتماعی استعفے دے دیے تھے۔ڈائریکٹر نے فلسطینی جماعت حماس کے لیڈروں کو ’’عظیم شخصیات‘‘ قراردیا تھا۔انھوں نے اس قسم کے بیانات 2014ء اور 2015ء میں جاری کیے تھے۔

اسلامک ریلیف کے صدر دفاتر برطانیہ کے شہر برمنگھم میں واقع ہیں۔اس کی ویب سائٹ کے مطابق وہ ایک بین الاقوامی امدادی ایجنسی ہے۔وہ دنیا کو بہتر اور محفوظ مقام بنانے کے لیے گذشتہ 30 سال سے جدوجہد کررہی ہے۔اس کے دنیابھر میں 40 دفاتر ہیں اور عملہ کے ارکان کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔