.

امریکا : حوثی ملیشیا کا نام "خصوصی تشویش" کا باعث بننے والی تنظیموں میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یمن میں ایران کی حمایت یافتہ "حوثی ملیشیا" کو "خصوصی تشویش" کا باعث بننے والی تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا ہے کہ سوڈان اور ازبکستان کو خصوصی نگرانی کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے یقینی بنائی گئی بڑی پیش رفت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

واشنگٹن نے "خصوصی تشویش" کا باعث بننے والی تنظیموں کی فہرست میں حوثی ملیشیا کے ساتھ ساتھ حرکت الشباب، القاعدہ تنظیم، بوکو حرام، تحریر الشام تنظیم، داعش اور افغان طالبان کا نام بھی درج کر لیا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ یہ بتا چکے ہیں کہ امریکا حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم امریکی ذمے داران نے یہ اعتراض اٹھایا کہ اس طرح یمن میں ضرورت مندوں تک غذائی مواد اور ہنگامی امداد کی رسائی کا عمل معطل ہو سکتا ہے۔ میڈیا کے مطابق پومپیو موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونے سے قبل یہ اعلان کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس سے قبل امریکی ذرائع نے واشنگٹن پوسٹ اخبار کو بتایا تھا کہ پومپیو جلد ہی حوثی ملیشیا کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی وزیر ایران نواز ملیشیا کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے اقدام کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ یہ پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی نظام کے ساتھ تعامل کرنے والی تنظیموں پر انتہائی دباؤ کی پالیسی جاری رکھنے کی کڑی ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے تقریبا دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ یمن میں حوثی ملیشیا کے ساتھ نمٹنے کے لیے امریکا کے آپشنز کھلے ہیں۔