.

ایران: صحافی روح اللہ زم کی عدالتِ عظمیٰ سے بھی سزائے موت برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی عدالتِ عظمیٰ نے ملک میں تین سال قبل احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے کے لیے آن لائن مہم چلانے والے صحافی کوسنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم نے منگل کے روز عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’عدالت عظمیٰ نے روح اللہ زم کو سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کردی ہے‘‘ لیکن یہ نہیں بتایا ہے کہ عدالت نے یہ حکم کب جاری کیا تھا اور پابند سلاسل صحافی کو کب تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔

ایرانی قانون کے تحت زم عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے کے خلاف ایک اور اپیل دائر کرسکتے ہیں اور عدلیہ کے سربراہ کو سزائے موت کو منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔اس کے علاوہ وہ ماتحت عدالتوں میں شریعت کے منافی کارروائی کی صورت میں دوبارہ مقدمے کی سماعت کا حکم دے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ جون میں ایک ایرانی عدالت نے روح زم کو سزائے موت سنائی تھی اور انھیں ’’فساد فی الارض‘‘کا مجرم قرار دیا تھا۔ایران میں ایسے افراد پر بالعموم جاسوسی میں ملوّث ہونے کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں یا انھیں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش پر قصور وار قرار دیا جاتا ہے۔

روح اللہ زم نے پیغام رسانی کی مقبول ایپ ٹیلی گرام پر ایک چینل بنا رکھا تھا۔ان کی ایک ویب سائٹ بھی تھی۔ان کے ذریعے 2017ء میں خوراک کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے خلاف ایران کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق پیغامات کی تشہیر کی جاتی تھی۔تاہم ایرانی حکومت کی درخواست پر ان کا انسٹاگرام پر چینل بند کردیا گیا تھا۔

ان کی ایران میں گرفتاری کی تفصیل ابھی تک منظرعام پر نہیں آئی ہے۔وہ قبل ازیں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جلاوطنی کی زندگی گزاررہے تھے۔ انھیں ایران واپسی پر انٹیلی جنس حکام نے گرفتار کرلیا تھا۔اس سال کے اوائل میں ٹیلی ویژن سے ان کے اعترافی بیانات بھی نشر کیے گئے تھے۔