.

برطانیہ میں فائزرکی کووِڈ-19 کی ویکسین عام مریضوں اورطبی عملہ کوباقاعدہ لگانے کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں حکام نے کووِڈ-19 کی ویکسین کی پہلی خوراک لگانے کا آغاز کردیا ہے۔وہ دنیا میں پہلا ملک بن گیا ہے جہاں امریکی کمپنی فائزر کی تیار کردہ ویکسین آزمائشی جانچ کے بعد اب باقاعدہ طور پر کووِڈ-19 کے مریضوں یا ان کے علاج پر مامورطبی عملہ کو لگائی جارہی ہے۔

برطانوی حکومت نے قریباً ایک ہفتہ قبل امریکا کی دوا ساز کمپنی فائزر کی بائیواین ٹیک کے اشتراک سے تیارکردہ کووِڈ-19 کی ویکسین عام شہریوں کو لگانے کی منظوری دی تھی۔ منگل کی صبح چھے بج کر31 منٹ پر کوونٹری میں واقع یونیورسٹی اسپتال میں ایک 90 سالہ خاتون مارگیرٹ کینان کو سب سے پہلے ویکسین لگائی گئی ہے۔

کینان آیندہ ہفتے 91 سال کی ہوجائیں گی۔ انھوں نے ویکسین لگوانے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ خود کو اعزاز یافتہ سمجھ رہی ہیں۔سالگرہ سے قبل یہ ان کے لیے ایک اچھا تحفہ ہے اور وہ نئے سال میں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزار سکیں گی۔‘‘

برطانیہ میں کووِڈ-19 کے مریضوں اور طبی عملہ کو ویکسین لگانے کی مہم کے آغاز کے بعد اب بڑا چیلنج اس کی بڑے پیمانے پر دستیابی کو یقینی بنانا ہوگا۔اس وائرس سے متاثرہ یا متاثر ہوسکنے والے افراد کو لگانے کے لیے ویکسین کی لاکھوں ، کروڑوں خوراکیں درکار ہوں گی۔

برطانیہ نے پہلے ہی ویکسین کی چار کروڑ خوراکیں مہیا کرنے کا آرڈردے دیا ہے لیکن آج سے شروع ہونے والے ابتدائی مرحلے کے لیے صرف آٹھ لاکھ خوراکیں دستیاب ہوں گی کیونکہ اس ویکسین کی دوخوراکیں لگائی جائیں گی اور پہلی اور دوسرا انجکیشن لگانے میں تین ہفتے کا وقفہ ہوگا،اس لیے برطانیہ کے پاس قریباً ایک تہائی آبادی کو لگانے کے لیے ویکسین وافر تعداد میں موجود ہوگی۔

برطانیہ نے ایک اور امریکی کمپنی ماڈرنا کی تیار کردہ ویکسین کی 70 لاکھ خوراکیں مہیا کرنے کا بھی آرڈر دے دیا ہے۔توقع ہے کہ برطانیہ میں آیندہ چند ہفتوں میں اس کے ہنگامی استعمال کی منظوری دے دی جائے گی۔

برطانوی محکمہ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسپتالوں میں ویکسین لگانے کے لیے 50 مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔ویلز اور اسکاٹ لینڈ میں ویکسی نیشن مراکز ان کے علاوہ ہوں گے۔تاہم ان کا ابھی تعیّن نہیں کیا گیا ہے۔برطانیہ میں پہلے مرحلے میں صرف اسپتالوں میں ویکسین لگائی جارہی ہے۔

ابتدائی طور پر 80 سال سے زیادہ عمر کے افراد ،سوشل ورکروں اور صحت عامہ کی خدمات مہیا کرنے والے عملہ اور گھروں میں کام کرنے والے افراد کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسین لگائی جارہی ہے۔

حکومت کی رہ نماہدایات کے مطابق جس شخص کو پہلی مرتبہ ویکسین لگائی جائے گی،اس کو کریڈٹ کارڈ جتنا ایک ویکسی نیشن کارڈ دیا جائے گا،اس پر دوسری مرتبہ ویکسین لگانے کی تفصیل درج ہوگی اور دوسری خوراک کے بعد سات سے دس روز میں وہ شخص کرونا وائرس سے محفوظ ہوجائے گا یا اس کو اس مہلک وائرس کے خطرے سے محفوظ ہوجانا چاہیے۔

برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکوک نے ویکسی نیشن پروگرام کے آغاز کو سائنسی ترقی کے سفر میں ایک بڑا لمحہ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ ویکسین کووِڈ-19 کے مرض کا دنیا بھر میں تریاق ثابت ہوسکتی ہے اور لوگوں کو ہر کہیں تحفظ مہیا کرسکتی ہے۔

انھوں نے آج صبح ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ابھی بہت کام باقی ہے۔اگر موسم بہار تک کافی تعداد میں لوگوں کو ویکسین لگادی جاتی ہے تو پھر برطانیہ میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عاید کردہ بہت سی پابندیوں کو ہٹایا جاسکتا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ فائزر اور بائیو این ٹیک کی تیارکردہ ویکسین کومنفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ پر ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔اس لیے حمل ونقل کے دوران میں اس درجہ حرارت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی تقسیم مشکل ہوگی۔اس کے مقابلے میں ماڈرنا کی تیارکردہ ویکسین زیادہ کارآمد ہوسکتی ہے کیونکہ اس کو منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک رکھاجاسکتا ہے۔