.

معاشی بحران کے جلو میں ایردوآن کی غیرملکی سرمایہ کاروں کو ترکی میں سرمایہ کاری کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے غیر ملکی سرمایہ کاروں سے ترکی آنے کی دعوت دی ہے اور کہا کہ ترک حکومت غیر ملکی سرکایہ کاروں کی بھرپور میزبانی کرے گا۔

ایردوآن کی اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترک خود مختار دولت فنڈ نے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت قطر استنبول اسٹاک ایکسچینج کا 10 فیصد خریدے گا۔

ایردوآن ترک لیرا کی گراوٹ میں تیز رفتاری روکنے کے لیے کوشش کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں‌نے کمپنیوں اور افراد پر قرض جمع کرنے کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔

ترکی کے اخبار احوال کی خبر کے مطابق دو روز قبل ، ترکی کے وزیر توانائی فاتح ڈونماز نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ایک سوال کے جواب کہا تھا کہ ترکی میں ڈیڑھ لاکھ خاندانوں کو قرضوں کی وجہ سے بجلی اور قدرتی گیس کاٹنے کا اعلان کیا تھا۔

حزب اختلاف کے ایک ترک قانون ساز نے کہا کہ ایردوآن کی حکومت کو شہریوں کی مشکلات کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرنا ہوگا۔

ترکی کی معیشت مشکل حالات سے گذر رہی ہے۔ مُلک میں غیرملکی کرنسیوں اور افراط زر کی شرح نےترک لیرا پر غیرمعمولی دباؤ ڈالا ہے۔

تُرکی کی سالانہ افراط زر کی شرح توقع سے زیادہ نومبر میں 14.03 فیصد تک جا پہنچی ہے جو کہ اگست 2019 کے بعد کی یہ بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

افراط زر کی شرح میں اضافے کی وجہ لیرا کی قدر میں کمی ہے۔، پچھلے مہینوں کےدوران سود کی بڑی شرح میں اضافے کے بعد مانیٹری پالیسی کو سخت کرنےکا اعلان کیا گیا تھا۔