.

اسرائیل سے تعلقات؛مراکش بدستور فلسطینی تنازع کے دوریاستی حل کا حامی ہے: شاہ محمد ششم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش کے شاہ محمد ششم نے فلسطینی صدر محمودعباس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا ملک بدستور اسرائیلی ، فلسطینی تنازع کے دو ریاستی حل کا حامی ہے۔

انھوں نے جمعرات کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے اعلان کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔شاہی دیوان کے ایک بیان کے مطابق شاہ محمد نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات ہی تنازع کے حتمی ،پائیدار اور جامع حل تک پہنچنے کا واحد راستہ ہیں۔‘‘

اسرائیل اور مراکش نے امریکا کی ثالثی میں معمول کے تعلقات استوار کرنے سے اتفاق کیا ہے۔مراکش گذشتہ چار ماہ میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کا اعلان کرنے والا چوتھا عرب ملک ہے۔

اس مجوزہ امن معاہدے کے حصے کے طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی صحرا (صحارا) کے تمام علاقے پر مراکش کی خود مختاری تسلیم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔اس علاقے پر مراکش کا الجزائر کی حمایت یافتہ تحریک پولیسیاریو فرنٹ سے تنازع چل رہا ہے۔ یہ تحریک اس علاقے میں اپنی آزاد ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو مراکش کے شاہ محمد ششم سے فون پر بات چیت کی ہے اور مراکش کے اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتے کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت مراکش اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات اور سرکاری روابط استوار کرے گا،اس کی پروازوں کو اپنی فضائی حدود سے گذرنے کی اجازت دےگا اور تمام اسرائیلیوں کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان اپنی پروازیں چلائے گا۔