.

ایران جوابی کارروائی میں اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے: امریکی مرکزی کمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل کینیتھ میکنزی کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے زیر اثر ملیشیاؤں کو جدید ہتھیار فراہم کیے اور اب وہ تہران سے رجوع کے بغیر کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

میکنزی کے مطابق ایران محسن فخری زادہ کی ہلاکت پر شرمندگی کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ ایران جواب میں اسرائیل پر ضرب لگائے گا"۔

امریکی جنرل نے واضح کیا کہ ایران کی عادت ہے کہ وہ سست روی سے تصرف کرتا ہے اور جوابی کارروائی میں وقت لگاتا ہے۔

میکنزی نے باور کرایا کہ عراق کی حکومت ان جماعتوں کے خلاف کام کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ یہ واشنگٹن اور بغداد کے درمیان اچھے کام کی جانب اشارہ ہے۔

جنرل میکنزی کے مطابق ایران کا امریکا کو عراق سے باہر کرنے میں ناکام رہنا ،،، قاسم سلیمانی کے جاں نشیں کے کمزور ہونے اور تہران میں ایرانی قیادت کے بیچ تنازع کے موجود ہونے کا ثبوت ہے۔

دوسری جانب امریکا کے دو بم بار طیارں نے گذشتہ روز مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی فضائوں میں پرواز کی۔ امریکی حکام کا کہنا ہےکہ یہ پروازیں خطے میں ایرانی مداخلت کے خلاف تہران کے لیے واضح‌پیغام ہیں کہ اگر ایران نے خطے میں کسی قسم کی تخریبی کارروائی کی کوشش کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی طیاروں نے کل جمعرات کے روز خلیجی پانیوں پر اڑانیں بھریں۔ یہ ایک ماہ کے دوران امریکی جنگی طیاروں کی دوسری بار پروازیں ہیں۔

مشرق وسطی کے خطے کے اعلی امریکی عہدیدار جنرل فرینک میک کینزی نے ایک بیان میں کہا ایک نان اسٹاپ مشن کے دوران دنیا بھر میں اسٹریٹجک بمبار طیاروں کی اڑانیں، متعدد علاقائی شراکت داروں کے ساتھ قریبی کاروباری تعلقات اور علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے ہماری مشترکہ وابستگی کی عکاسی کرتی ہیں۔

امریکی حکام نے رواں سال جنوری میں بغداد ہوائی اڈے کے قریب ایرانی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کے سینیر رہ نماؤں کی ہلاکت کا ایک سال مکمل ہونے پر ایران کی طرف سے ممکنہ جوابی اور انتقامی کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا عراق میں ا مریکی تنصیبات پر معمول کے مطابق میزائل فائر کرتے رہے ہیں۔ امریکیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائیں زیادہ مہلک حملہ کر سکتی ہیں۔