.

واشنگٹن : 3 مرکزی عوامل جن کے سبب حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ کے نائب معاون ٹیموتھی لینڈرکنگ کا کہنا ہے کہ حوثیوں کا شہریوں کو نشانہ بنانا، ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ گہرے تعلقات رکھنا اور اغوا کی کارروائیوں کو بطور آلہ حرب استعمال کرنا ،،، یہ تمام وہ امور ہیں جن کے سبب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ حوثی ملیشیا کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

جمعرات کے روز ٹیلی فون کے ذریعے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ امور نہ ہوتے تو مذکورہ درجہ بندی زیر بحث نہ آتی۔ لینڈرکنگ نے مذکورہ تین مرکزی اسباب کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے اندر جاری بات چیت کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا جو کچھ کر رہی ہے وہ ایک دہشت گرد تنظیم کے رویے سے بہت قریب ہے۔

اس سے قبل امریکی ذرائع نے واشنگٹن پوسٹ اخبار کو بتایا تھا کہ پومپیو جلد ہی حوثی ملیشیا کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی وزیر ایران نواز ملیشیا کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے اقدام کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ یہ پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی نظام کے ساتھ تعامل کرنے والی تنظیموں پر انتہائی دباؤ کی پالیسی جاری رکھنے کی کڑی ہے۔