.

اسپین:کپڑوں کی حبس زدہ فیکٹری میں چھپائے گئے21 تارکینِ وطن بازیاب،تین افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسپین میں پولیس نے کپڑوں کی حبس زدہ فیکٹری میں چھپائے گئے 21 تارکینِ وطن کو بازیاب کرا لیا ہے۔انھیں غیر صحت مند ماحول میں رکھا گیا تھا اور ان سے صرف دو یورو فی گھنٹا کے حساب سے کئی کئی گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔

پولیس کی ویڈیو فوٹیج کے مطابق تارکینِ وطن کو جنوبی مشرقی شہر مرسیا میں واقع ایک فیکٹری میں کپڑوں کی بڑی گٹھوں کے پیچھے چھپایا گیا تھا۔یہ فیکٹری افریقی ممالک کو کپڑے فروخت کرتی ہے۔

ان تارکینِ وطن کو چھپانے کے الزام میں ایک باپ اور اس کے دو بیٹوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن پولیس نے فوری طور پر ان کی شناخت نہیں بتائی ہے۔ان تینوں کو آج ہفتے کے روز عدالت میں پیش کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ اسپین میں کم سے کم ماہانہ اجرت 1050 یورو ہے۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تینوں زیرحراست افراد نے تارکین وطن کی صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے،وہ انھیں کٹھن حالات میں رکھ رہے تھے اور انھیں دو یورو فی گھنٹا اجرت دی جارہی تھی۔انھیں کسی قسم کی سکیورٹی حاصل نہیں تھی اور غیرصحت مند حبس زدہ ماحول میں رکھا جارہا تھا۔