.

معاہدہ ریاض یمن میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے میں مدد دے گا: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں تعینات سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر نے کہا ہے کہ یمن میں عبوری کونسل اور آئینی حکومت کے درمیان طے پانے والا معاہدہ جنگ زدہ ملک میں امن اور استحکام کی بحالی میں مدد گار ثابت ہوگا۔

اپنے ایک بیان میں سعودی عرب کے سفیر نے کہا کہ یمن قوم جلد ہی معاہدہ الریاض کے ثمرات سمیٹے گی۔

خیال رہے کہ کل جمعہ کے روز یمن میں‌آئینی حکومت کی حمایت کے لیے لڑنے والے عرب عسکری اتحاد نے کہا تھا کہ معاہدہ الریاض کے فوجی نوعیت کے نکات پرعمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ ان نکات میں عبوری کو نسل کے زیرانتظام علاقوں میں آئینی فوج کی واپسی اور عبوری کونسل کے معاون دستوں کا انخلا شامل ہے۔

عرب اتحاد کا کہنا تھا کہ معاہدہ الریاض کے تحت ابین سے ابین اور عدن سے عبوری کونسل کے دستوں کی واپسی جاری ہے اور اس کی نگرانی عرب اتحاد کررہا ہے۔

یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کے ایک ذریعے نے بتایا کہ معاہدہ الریاض کے تمام نکات پرعمل درآمد کا فیصلہ کرتے ہوئے یمن کے لیے 24 رکنی نئی کابینہ کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا ہے۔ نئی کابینہ میں آئینی حکومت اور عبوری کونسل کے ارکان سمیت بعض دوسری سیاسی قوتوں کو بھی شامل کیا گیاہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جمعرات10 دسمبرکو عرب اتحاد کے عسکری ماہرین کی موجودگی میں ابین اور عدن سے عبوری کونسل کے عسکری ارکان کو وہاں سے نکال کرانہیں مختلف محاذوں پر تعینات کیا جائے گا جہاں انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل کیا جائےگا۔