.

یورپی یونین کی ممکنہ پابندیوں سے ترکی میں سیاسی دھماکے کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت "ریپبلکن پیپلز پارٹی" نے خود کو اُن پابندیوں سے کنارہ کش کر لیا ہے جن کا یورپی یونین نے انقرہ حکومت پر عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مذکورہ جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اور جماعت کے خارجہ تعلقات کے ذمے دار اُنال چیفکوز کا کہنا ہے کہ "ہماری جماعت انقرہ اور برسلز کے درمیان تنازع میں فریق نہیں ہے، جو کچھ ہوا اس کے باوجود ہم یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات جاری رکھیں گے"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے چیفکوز کا کہنا تھا کہ "آئندہ مارچ میں ترکی کے حوالے سے یورپی یونین کے سربراہ اجلاس کے انعقاد کے ساتھ ہی ہم اُن پابندیوں کے بارے میں مکمل طور پر جان لیں گے جو برسلز کی جانب سے انقرہ پر عائد کی جائیں گی"۔ چیفکوز نے یورپ اور ترکی کے درمیان حالیہ بحران کا ذمے دار حکمراں جماعت کو ٹھہرایا۔ یہ بحران ترکی کی جانب سے بحیرہ روم کے مشرق میں یونانی اور قبرصی جزیروں کے نزدیک تیل کے وسائل کے لیے کھدائی کے تناظر میں آخری چند ماہ میں سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔

ترک رکن پارلیمنٹ کے مطابق انقرہ کو ایک نئی خارجہ پالیسی اپنانا ہو گی جو یورپی یونین اور عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعامل کی روایات کو نقصان نہ پہنچائے۔ اسی طرح انقرہ کو دیگر ممالک کے خلاف ایسی تقاریر سے گریز کرنا ہو گا جو وہ اپنے خلاف استعمال ہونے کی صورت میں مسترد کر دیتا ہے۔

انقرہ پر یورپی پابندیوں کے اثرات کے حوالے سے بین الاقوامی تعلقات کی تُرک خاتون پروفیسر اروز ولماز کا کہنا ہے کہ "یہ پابندیاں آخر کار ترکی میں اقتصادی صورت حال پر اثر انداز ہوں گی۔ تاہم اگر ان پابندیوں کا مقصد ترک حکومت کو تبدیلی کی طرف مجبور کرنا ہے تو ایسا نہیں ہو سکے گا اور اس کے نتیجے میں ترکی میں ایک بڑا سیاسی دھماکا بھی سامنے آ سکتا ہے"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ولماز کا کہنا تھا کہ "میں سمجھتی ہوں کہ اگر یورپی یونین ان پابندیوں کے ذریعے اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی تو وہ ایردوآن کے خلاف اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی۔ وہ موجودہ حکومت کو ملک میں اصلاحات یا قبل از وقت صدارتی انتخابات پر مجبور نہیں کرے گی"۔

گذشتہ روز برسلز میں منعقد ہونے والے یورپی سربراہ اجلاس میں بحیرہ روم میں کھدائی کے کام کے ساتھ متعلق تُرک شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس کے ضمن میں فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں کا کہنا تھا کہ ترکی ہتھیار اور جنگجوؤں کو لیبیا منتقل کر کے یورپ کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انقرہ پر آئندہ پابندیاں ذمے داران اور سیکٹروں کو لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔